اور جان لو بلاشبہ تم میں اللہ کے رسول ہیں، اگر وہ تمھاری اطاعت کریں بہت سے معاملات میں (تو) یقیناً تم مشقت میں پڑ جاؤ اور لیکن اللہ نے محبوب بنا دیا تمھاری طرف ایمان کو اور مزین کر دیا اس نے اسے تمھارے دلوں میں، اور ناپسندیدہ بنا دیا تمھارے لیے کفر اور فسق اور نافرمانی کو، اور یہی لوگ ہیں رشد و ہدایت والے(7) بطور فضل کے اللہ کی طرف سے اور احسان کے اور اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا ہے(8)
[7]یعنی تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہﷺ تمھارے اندر موجود ہیں وہ ایسے رسول ہیں، جو صاحب کرم، نیک طینت اور راہِراست دکھانے والے ہیں، جو تمھاری بھلائی چاہتے ہیں تمھارے خیرخواہ ہیں اور تم اپنے لیے شر اور ضرر چاہتے ہو، جس پر رسول تمھاری موافقت نہیں کر سکتے۔ اگر رسولﷺ بہت سے معاملات میں تمھاری اطاعت کرنے لگے تو تم مشقت میں پڑ جاؤ گے اور ہلاکت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ مگر رسول اللہﷺ تمھیں رشد و ہدایت کی راہ دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ تمھارے لیے ایمان کو محبوب بناتا ہے، اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں میں حق کی محبت اور اس کی ترجیح ودیعت کی ہے، اس نے حق پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، جو اس کی صحت پر دلالت کرتے ہیں اور قلوب اور فطرت اس کی قبولیت کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انابت کی جو توفیق عطا کرتا ہے…وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں میں ایمان کو مزین کرتا ہے۔اس نے تمھارے دلوں میں شر سے جو نفرت و دیعت کی ہے، تمھارے دلوں میں شر کی تعمیل کا جو ارادہ معدوم ہے، اس نے شر کے فساد اور اس کی مضرت پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، تمھارے دلوں اور فطرت کے اندر شر کی جو عدم قبولیت ودیعت کی ہے اور دلوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے شر کے لیے جو کراہت پیدا کی ہے...۔ وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں کے لیے کفر و فسق یعنی چھوٹے بڑے گناہ کو ناپسندیدہ بناتا ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان مزین کردیا اور اسے ان کا محبوب بنا دیا، اور ان کو کفر، گناہ اور معصیت سے بیزار کردیا۔ ﴿ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ﴾ ’’وہی راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ یعنی جن کے علوم و اعمال درست ہوگئے اور وہ دین قویم اور صراط مستقیم پر کاربند ہوگئے۔ان کے برعکس اور ان کی ضد وہ لوگ ہیں جن کے لیے کفر، فسق اور عصیان کو پسندیدہ اور ایمان کو ناپسندیدہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ گناہ ان کا اپنا گناہ ہے کیونکہ جب انھوں نے فسق کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ﴿ زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ کج رو ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ چونکہ جب حق پہلی مرتبہ ان کے پاس آیا تو وہ اس پر ایمان نہ لائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا۔
[8]﴿ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً﴾ یعنی یہ بھلائی جو انھیں حاصل ہے، ان پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل و احسان ہے، اس میں ان کی اپنی قوت و اختیار کو کوئی دخل نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر کرتا ہے پس وہ اسے اس نعمت کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور اس شخص کو بھی جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر نہیں کرتا اور یہ نعمت اس کے لائق نہیں ہوتی۔ پس وہ اپنے فضل و کرم کو اس مقام پر رکھتا ہے جہاں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔