Tafsir As-Saadi
55:33 - 55:34

اے گروہ جن و انس! اگر طاقت رکھتے ہو تم یہ کہ نکل جاؤ تم کناروں سے آسمانوں اور زمین کے تو نکل جاؤ ،نہیں نکل سکتے تم مگر غلبے ہی سے (33) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (34)

[33، 34] جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے روز جمع کرے گا تو انھیں ان کی کمزوری و بے بسی اور اپنی کامل طاقت، اپنی مشیت اور قدرت کی تنفیذ سے آگاہ کرے گا، ان کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہوئے فرمائے گا:﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اے جنوں اور انسان کی جماعت! اگر تمھیں کوئی راستہ اور کوئی سوراخ ملتا ہے جہاں سے تم اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اس کی سلطنت سے نکل بھاگو ﴿ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾ تو تم نکل بھاگو لیکن تم قوت، طاقت اور کامل قدرت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی سلطنت سے باہر نہیں نکل سکتے۔ یہ قوت انھیں کہاں سے حاصل ہو،حالانکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں نہ زندگی اور موت کا، اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص کلام نہیں کر سکے گا اور مدھم سی آوازوں کے سوا تم کچھ نہیں سن سکو گے، اس مقام پر بادشاہ اور غلام، سردار اور رعایا، غنی اور محتاج سب برابر ہوں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جو اس دن ان کے لیے تیار کی گئی ہوں گی ، چنانچہ فرمایا: