Tafsir As-Saadi
6:46 - 6:47

کہہ دیجیے، مجھے بتلاؤ! اگر چھین لے اللہ، تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور مہر لگادے تمھارے دلوں پر تو کون معبودہے سوائے اللہ کے ،جو لادے تمھیں یہ(چیزیں )؟ دیکھیے!کس طرح پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیتیں ، پھر بھی وہ اعراض کرتے ہیں (46) کہہ دیجیے،مجھے بتلاؤ! اگر آجائے تم پر عذاب اللہ کا یکایک یا علانیہ تو نہیں ہلاک کیے جائیں گے مگر ظالم لوگ ہی(47)

[46] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جس طرح وہ تمام کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے اسی طرح وہ وحدانیت اور الوہیت میں بھی متفرد ہے۔ فرمایا ﴿قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَخَذَ اللّٰهُ سَمۡعَكُمۡ وَاَبۡصَارَؔكُمۡ وَخَتَمَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے بتلاؤ! اگر اللہ تعالیٰ چھین لے تمھارے کان اور آنکھیں اور مہر لگا دے تمھارے دلوں پر‘‘یعنی تم اس حالت میں باقی رہ جاؤ کہ تمھاری سماعت ہو نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت: ﴿ مَّنۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ ﴾ ’’تو کون ایسا معبود ہے اللہ کے سوا جو تم کو یہ چیزیں لا دے۔‘‘جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو یہ چیز عطا کر سکے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی ہستیوں کی عبادت کیوں کرتے ہو جن کے پاس کچھ بھی قدرت و اختیار نہیں مگر جب اللہ چاہے۔ یہ آیت کریمہ توحید کے اثبات اور شرک کے بطلان کی دلیل ہے اس لیے فرمایا ﴿اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو! ہم کیوں کر طرح طرح سے بیان کرتے ہیں باتیں ‘‘ یعنی ہم اپنی آیات کو کس طرح متنوع بناتے ہیں ، ہم ہر اسلوب میں اپنی نشانی لاتے ہیں ۔ تاکہ حق روشن اور مجرموں کی راہ واضح ہو جائے ﴿ثُمَّ هُمۡ يَصۡدِفُوۡنَ ﴾ ’’پھر بھی وہ اعراض کرتے ہیں ‘‘ یعنی اس کامل تبیین و توضیح کے باوجود بھی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے روگردانی اور اعراض کرتے ہیں ۔
[47]﴿قُلۡ اَرَءَيۡتَكُمۡ ﴾ یعنی مجھے خبر دو ﴿ اِنۡ اَتٰىكُمۡ عَذَابُ اللّٰهِ بَغۡتَةً اَوۡ جَهۡرَةً ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا عذاب بے خبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آ جائے یا اس عذاب کے مقدمات ظاہر ہو جائیں جن سے تمھیں اس عذاب کے وقوع کا علم ہو جائے ﴿ هَلۡ يُهۡلَكُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا۔‘‘ یعنی وہی ظالم لوگ ہلاک ہوں گے جو اپنے ظلم و عناد کی وجہ سے اس عذاب کے وقوع کا سبب بنے۔ اس لیے ظلم پر قائم رہنے سے بچو کیونکہ ظلم ابدی ہلاکت اور دائمی بدبختی ہے۔