Tafsir As-Saadi
83:29 - 83:36

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36)

[29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔
[36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔