اور نہیں ہے اللہ (ایسا) کہ گمراہ کر دے کسی قوم کو بعد اس کے کہ ہدایت دی اس نے ان کو یہاں تک کہ واضح کر دے ان کے لیے وہ چیزیں کہ جن سے وہ بچیں، بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے(115) یقینا اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہ آسمانوں اور زمین کی، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور نہ مدد گار(116)
[115] یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہدایت سے نوازتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر اپنے احسان کی تکمیل کرتا ہے اور ان تمام امور کو ان پر واضح کر دیتا ہے جن کے وہ محتاج ہیں اور ضرورت جن کا تقاضا کرتی ہے، پس وہ انھیں ان کے دین کے امور کے بارے میں گمراہ اور جاہل نہیں چھوڑتا۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کی دلیل ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت بندوں کی ان تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے جن کے وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں محتاج ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِلَّ قَوۡمًۢا بَعۡدَ اِذۡ هَدٰؔىهُمۡ حَتّٰى يُبَيِّنَ لَهُمۡ مَّا يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’اللہ ایسا نہیں کہ وہ کسی قوم کو راہ راست دکھانے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان پر وہ امور واضح نہ کر دے جن سے وہ بچیں ۔‘‘ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان پر وہ تمام امور واضح فرما دیتا ہے جن سے ان کو پرہیز کرنا چاہیے اور وہ ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو واضح حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دیتا ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ یعنی اس کا کامل اور ہر چیز کو شامل علم ہی ہے کہ اس نے تمھیں ان امور کی تعلیم دی جنھیں تم نہ جانتے تھے اور ہر وہ چیز تم پر واضح کر دی ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو۔
[116]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ ’’بے شک اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ زمین و آسمان کا مالک ہے وہ زندگی اور موت اور مختلف انواع کی تدابیر کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے جب اس کی تدبیر کونی و قدری میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا تو تدبیر دینی میں، جو اس کی الوہیت سے متعلق ہے، کیوں کر خلل واقع ہو سکتا ہے، وہ اپنے بندوں کو کیوں کر بیکار اور مہمل یا جاہل اور گمراہ چھوڑ سکتا ہےحالانکہ وہ اپنے بندوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارا کوئی حمایتی نہیں ‘‘ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں مختلف قسم کی منفعتیں عطا کرے۔ ﴿ وَّلَا نَصِيۡرٍ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار‘‘ تم سے مضرتیں دور کر کے تمھاری مدد کرے۔