Tafsir As-Saadi
9:117 - 9:118

البتہ تحقیق توجہ فرمائی اللہ نے اوپر نبی اور مہاجرین اور انصار کے، وہ (مہاجرین و انصار) کہ جنھوں نے اتباع کیا آپ کا تنگی کی گھڑی میں بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ٹیڑھے ہو جائیں دل ایک فریق کے ان میں سے، پھر توجہ فرمائی اللہ نے ان پر، بلاشبہ اللہ ان پر بہت شفیق نہایت مہربان ہے(117)اور (توجہ فرمائی اللہ نے) ان تین شخصوں پر، جو چھوڑ دیے گئے تھے (حکم الٰہی کے انتظار میں ) یہاں تک کہ جب تنگ ہو گئی ان پر زمین باوجود فراخی کے اور تنگ ہو گئیں ان پر جانیں ان کی اور یقین کر لیا انھوں نے یہ کہ نہیں ہے کوئی جائے پناہ اللہ (کی ناراضی) سے مگر اسی کی طرف، پھر اللہ نے توجہ فرمائی ان پر تاکہ وہ توبہ کریں ، یقینا اللہ، وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا(118)

[117] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے کہ ﴿ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ﴾ ’’مہربان ہوا وہ اپنے پیغمبر پر‘‘ ﴿وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ﴾ ’’اور مہاجرین اور انصار پر‘‘ پس ان کی تمام لغزشیں معاف کر دیں ، انھیں بے شمار نیکیاں عطا کیں اور انھیں بلند ترین مراتب پر فائز فرمایا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے نہایت مشکل اور مشقت سے لبریز عمل کیے، اسی لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِيۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ﴾ ’’جو ساتھ رہے اس پیغمبر کے مشکل کی گھڑی میں ‘‘ یعنی وہ غزوہ تبوک میں دشمن کے ساتھ جنگ کے لیے آپ کے ساتھ نکلے، سخت گرمی کا موسم تھا، سامان سفر اور سواریوں وغیرہ کی قلت اور دشمن کی افرادی تعداد زیادہ تھی۔ یہ ایسے حالات تھے جو لوگوں کے پیچھے رہنے کا باعث بنتے ہیں ۔ پس اس صورت میں وہ اللہ تعالیٰ سے مدد کے طلب گار ہوئے اور اس پر قائم رہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيۡغُ قُلُوۡبُ فَرِيۡقٍ مِّؔنۡهُمۡ﴾ ’’بعد اس کے کہ قریب تھا کہ دل پھر جائیں ان میں سے کچھ لوگوں کے‘‘ یعنی ان کے دل آرام و راحت اور سکون کی طرف مائل تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا کی، ان کی تائید کی اور ان کو قوت سے نوازا اور زیغ قلب (دل کے پھر جانے) سے مراد ہے قلب کا صراط مستقیم سے انحراف کرنا۔ اگر یہ انحراف اصول دین میں ہو تو یہ کفر ہے اور اگر انحراف شرائع کے احکام میں ہو تو یہ انحراف اس حکم شریعت کے مطابق ہوگا جس سے انحراف کیا گیا ہے۔ یہ انحراف یا تو اس حکم شریعت پر عمل کی کوتاہی کے سبب سے ہوتا ہے یا اس شرعی حکم پر غیر شرعی طریقے سے عمل کرنے کے باعث ہوتا ہے فرمایا: ﴿ ثُمَّؔ تَابَ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’پھر وہ مہربان ہوا ان پر‘‘ یعنی اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔ ﴿ اِنَّهٗ بِهِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و رافت ہے کہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان کو اس توبہ پر ثابت قدم رکھا۔
[118]﴿ وَّعَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِيۡنَ خُلِّفُوۡا﴾ ’’او ران تینوں پر بھی (اللہ مہربان ہوا) جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔‘‘ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان تین حضرات کی توبہ قبول کر لی جو اس غزوہ میں جہاد کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نہ نکل سکے تھے۔ وہ تھے کعب بن مالک اور ان کے ساتھی (ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیعy) ان کا قصہ صحاح اور سنن میں مشہور و معروف ہے۔(صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب ﴿وعلي الثلاثۃ... الخ﴾ حدیث: 4677) ﴿ حَتّٰۤى اِذَا﴾ یہاں تک کہ جب وہ بہت زیادہ غم زدہ ہوگئے ﴿ ضَاقَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ﴾ ’’اور زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہو گئی‘‘ یعنی اپنی وسعت اور کشادگی کے باوجود ﴿ وَضَاقَتۡ عَلَيۡهِمۡ اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’اور تنگ ہو گئیں ان پر ان کی جانیں ‘‘ جو کہ انھیں ہر چیز سے زیادہ محبوب تھیں ۔ پس کشادہ فضا ان کے لیے تنگ ہوگئی اور ہر محبوب چیز ان کے لیے تنگ ہوگئی جو عادۃً کبھی ان کے لیے تنگ نہ تھی۔ یہ صورت حال صرف اسی وقت ہوتی ہے جب کوئی انتہائی گھبراہٹ والا معاملہ ہو جو شدت اور مشقت میں اس حد تک پہنچ گیا ہو جس کی تعبیر ممکن نہ ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنۡ لَّا مَلۡجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور وہ سمجھ گئے کہ کہیں پناہ نہیں اللہ سے مگر اسی کی طرف‘‘ یعنی انھیں یقین ہوگیا اور اپنے حال کے ذریعے سے ان کو معلوم ہوگیا کہ ان سختیوں سے نجات دینے والا اور جس کے پاس پناہ لی جائے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا کوئی نہیں ، تب مخلوق کے ساتھ ان کا تعلق منقطع ہوگیا اور انھوں نے اپنے رب کے ساتھ اپنا تعلق جوڑ لیا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے بھاگ کر اللہ ہی کے پاس پناہ لی۔ وہ پچاس راتوں تک اس شدت اور کیفیت میں مبتلا رہے۔ ﴿ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’پھر مہربان ہوا ان پر‘‘ یعنی اللہ نے ان کو توبہ کی اجازت دے دی اور ان کو توبہ کی توفیق سے نواز دیا ﴿لِيَتُوۡبُوۡا﴾ ’’تاکہ وہ توبہ کریں ۔‘‘ تاکہ ان کی طرف سے توبہ واقع ہو اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ﴾ ’’بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بہت کثرت سے توبہ قبول کرتا ہے، بہت کثرت سے معاف کرتا ہے اور بہت کثرت سے لغزشوں اور نقائص کو بخش دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾عظیم رحمت اس کا وصف ہے جو ہر آن، ہر وقت اور ہر لحظہ اس کے بندوں پر نازل ہوتی رہتی ہے جس سے ان کے دنیاوی اور دینی امور سر انجام پاتے ہیں ۔(۱)ان آیات کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کی توبہ قبول کرنا، جلیل ترین مقصد اور بلند ترین منزل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے توبہ کو اپنے خاص بندوں کا مقام و منزل قرار دیا ہے۔ جب بندے ایسے اعمال کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور جن سے وہ راضی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی منزل سے نوازتا ہے۔(۲)اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ان پر سایہ کناں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہلا دینے والے مصائب کے وقت ان کے ایمان میں ثابت قدمی اور استقامت عطا کرتا ہے۔(۳)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ نفس پر شاق گزرنے والی عبادت ایسی فضیلت کی حامل ہوتی ہے جو کسی اور عبادت میں نہیں ہوتی۔ عبادت میں مشقت جتنی زیادہ ہوگی اجر اتنا ہی بڑا ہوگا۔(۴)بندے کی اپنے گناہ پر ندامت اور تاسف کے مطابق اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ جو کوئی گناہ کی پروا نہیں کرتا اور گناہ کے ارتکاب پر کوئی حرج محسوس نہیں کرتا تو اس کی توبہ عیب دار اور کھوکھلی ہے اگرچہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہے۔(۵) جب قلب مخلوق سے کٹ کر کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ متعلق ہو جائے تو یہ بھلائی اور شدت (تنگی)کے زوال کی علامت ہے۔(۶) ان تینوں اصحاب پر یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے ان کو کسی ایسے وصف سے موصوف نہیں کیا جو ان کے لیے عار کا باعث ہو، چنانچہ فرمایا:﴿خُلِّفُوۡا ﴾ ’’جو پیچھے چھوڑ دیے گئے‘‘ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل ایمان ان کو پیچھے چھوڑ گئے تھے یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو ان لوگوں سے پیچھے چھوڑ دیا گیا، جن کو ان کی معذرت کے قبول یا رد کے سلسلے میں علیحدہ کر دیا گیا تھا اور یہ کہ ان کا پیچھے رہ جانا بھلائی سے روگردانی کی بنا پر نہ تھا، اسی لیے ( تَخَلَّفُوا) کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔