Tafsir As-Saadi
6:105 - 6:108

اور اسی طرح پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات اور تا کہ کہیں وہ پڑھاہے تو نے (کسی سے) اور تا کہ ہم بیان کریں وہ، ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں (105) پیروی کریں اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی جانب سے، نہیں کوئی معبود مگر وہی اور اعراض کیجیے مشرکین سے (106) اور اگر چاہتا اللہ تو نہ شرک کرتے وہ اور نہیں بنایا ہم نے آپ کو ان پر محافظ اور نہیں ہیں آپ ان کے ذمے دار(107) اور مت گالی دو ان کو جنھیں پکارتے ہیں وہ اللہ کے سوا، پس گالی دیں گے وہ( بھی) اللہ کو حد سے گزرتے ہوئے، بغیر علم کے، اسی طرح مزین کر دیا ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل، پھر طرف اپنے رب کی ان کی واپسی ہے، پس وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو تھے وہ عمل کرتے (108)

[108] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک ایسے کام سے روکا ہے جو بنیادی طور پر جائز بلکہ مشروع ہے اور وہ ہے مشرکین کے معبودوں کو سب و شتم کرنا جن کے بت بنائے گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا گیا ہے، ان کی اہانت اور سب و شتم سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سب و شتم مشرکین کے لیے اللہ رب العالمین کو سب و شتم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جس عظیم ذات کی، ہر عیب و آفت اور سب و شتم سے تنزیہہ واجب ہے، اس لیے مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے دین میں متعصب ہیں اور اپنے دین کے لیے جوش میں آجاتے ہیں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے۔ وہ اعمال انھیں اچھے دکھائی دیتے ہیں لہذا وہ ہر طریقے سے ان کی مدافعت کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر مسلمان ان کے معبودوں کو گالی دیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھی گالی دیے بغیر نہیں رہتے جس کی عظمت ابرار و فجار کے دلوں میں راسخ ہے۔ مگر تمام مخلوق کو انجام کار قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور ان کے اعمال پیش کیے جائیں گے اور جو وہ اچھا برا کام کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس شرعی قاعدہ پر دلیل ہے کہ وسائل کا اعتبار ان امور کے ذریعے سے کیا جاتا ہے جن تک یہ پہنچاتے ہیں چنانچہ امور محرمہ کی طرف لے جانے والے وسائل و ذرائع حرام ہیں ، خواہ وہ فی نفسہ حلال ہی کیوں نہ ہوں ۔