Tafsir As-Saadi
66:6 - 66:6

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بچاؤ تم اپنے نفسوں کو اور اپنے اہل (و عیال) کو اس آگ سے کہ ایندھن اس کا ہیں انسان اور پتھر، اس پر (مقرر) ہیں فرشتے نہایت سخت دل بڑے مضبوط، نہیں نافرمانی کرتے وہ اللہ کی جس کا حکم دے وہ انھیں اوروہ (وہی ) کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں وہ(6)

[6] یعنی اے وہ لوگو جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے! ایمان کے لوازمات اور اس کی شرائط کا التزام کرو، اس لیے ﴿ قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا﴾ ’’اپنے آپ کواور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ‘‘ جو ان برے اوصاف سے متصف ہے۔ نفس کو بچانا یہ ہے کہ اس سے، اطاعت کا، اللہ تعالیٰ کے اوامر کا، اس کے نواہی سے اجتناب کا اور ایسے امور سے توبہ کا التزام کرایا جائے، جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور جو عذاب کے موجب ہیں۔اہل و عیال کو بچانا یہ ہے کہ ان کو ادب و علم سکھایا جائے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل پر مجبور کیا جائے۔پس بندہ صرف اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں، جو اس کی سرپرستی میں اور اس کے تصرف کے تحت ہوں، اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آگ کے یہ اوصاف اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھنے سے ڈریں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ﴾ ’’جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔‘‘ جیسا کہ فرمایا:﴿ اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍98) ’’تم اور تمھارے وہ خود ساختہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کرعبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں،تمھیں جہنم میں وارد ہونا ہے۔‘‘ ﴿عَلَيۡهَا مَلٰٓىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ﴾ ’’جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں۔‘‘ ان فرشتوں کے اخلاق بہت درشت اور ان کا انتقام بہت برا ہو گا، جہنمی ان کی آوازیں سن کرگھبرائیں گے اور ان کو دیکھ کر خوف کھائیں گے، یہ فرشتے اپنی طاقت و قوت سے جہنمیوں کو رسوا کریں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ کریں گے جس نے ان کے بارے میں عذاب کا حتمی فیصلہ کیا ہے اور سخت سزا ان پر واجب کی ہے۔ ﴿ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ انھیں جو حکم دیتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انھیں ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔‘‘ اس میں بھی مکرم فرشتوں کی مدح، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کے سر تسلیم خم کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر ان کی اطاعت کا ذکر ہے۔