Tafsir As-Saadi
10:75 - 10:93

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)

[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔
[76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔
[77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔
[78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔
[79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔
[80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔
[81]﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں ۔ ﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى مَا جِئۡتُمۡ بِهِ١ۙ السِّحۡرُ ﴾ ’’موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے، وہ جادو ہے‘‘ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑے ہونے کے باوجود ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبۡطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اللہ اسے باطل کر دے گا، یقینا اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔‘‘ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہو جاتا ہے ہر چند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہو جاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔
[82] موسیٰu نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو‘‘ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰu کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔
[83] رہا فرعون، اس کے اشراف قوم اور ان کے متبعین تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ﴾ ’’پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے، جنھوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہو جانے کی وجہ سے خوف کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ ﴿ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں ‘‘ یعنی ان کے دین کے معاملے میں ﴿ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور بے شک فرعون ملک میں متکبرو متغلب تھا۔‘‘ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لیے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ خاص طور پر ﴿ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰu پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم... کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بوڑھے جنھوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے، ان کے دلوں میں چونکہ عقائد فاسدہ راسخ ہوتے ہیں ، اس وجہ سے وہ، دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں ۔
[84]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰu نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ، کہا:﴿ يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر‘‘ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔
[85]﴿ فَقَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا‘‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔
[86]﴿ وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہو سکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کر سکیں ۔
[87]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰؔى وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔‘‘ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارونi کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِكُمَا بِـمِصۡرَ بُيُوۡتًا﴾ ’’کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔‘‘ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں ۔ ﴿وَّاجۡعَلُوۡا بُيُوۡتَكُمۡ قِبۡلَةً ﴾ ’’اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں ) ٹھہراؤ۔‘‘ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اورنماز قائم کرو‘‘ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔
[88] جب موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا تو ان کے لیے بددعا کی اور ہارونu نے اس پر آمین کہی، چنانچہ جناب موسیٰ نے دعا کی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَهٗ زِيۡنَةً ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت۔‘‘ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات، ملبوسات، سجے ہوئے گھر، اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ، دنیاوی آرائشوں کو اپنے لیے زینت بناتے ہیں ۔ ﴿وَّاَمۡوَالًا﴾ اور بڑے بڑے مال ﴿ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِكَ﴾ ’’دنیا کی زندگی میں ، اے ہمارے رب تاکہ وہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں ‘‘ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ﴿رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤى اَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کے مال کو برباد کردے۔‘‘ یعنی ان کے مال و دولت کو، تباہی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کر سکیں ۔ ﴿ وَاشۡدُدۡ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔‘‘ ﴿ فَلَا يُؤۡمِنُوۡا حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ ﴾ ’’پس وہ نہ ایمان لائیں ، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ‘‘ یہ بددعا انھوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی، اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا، نیز موسیٰu کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دے گا۔
[89]﴿ قَالَ قَدۡ اُجِيۡبَتۡ دَّعۡوَتُكُمَا ﴾ ’’اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی‘‘... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰu دعا کرتے جاتے تھے اور ہارونu آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمَا﴾ ’’پس دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيۡلَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔
[90] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍54-56)’’ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں ۔‘‘ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰu اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰu بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں ، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰu اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ﴿ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰu لے کر آئے۔
[91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا:﴿ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ ﴾ ’’حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔‘‘ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور تو شرارتیوں میں سے تھا‘‘ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔
[92]﴿ فَالۡيَوۡمَ نُنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً﴾ ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں ‘‘ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔
[93]﴿ وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ ﴾ ’’اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں ۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰu کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى)﴿ وَّرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ﴾ ’’اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں ‘‘ مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا﴾ ’’پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی‘‘ یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا‘‘ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں ۔اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔