Tafsir As-Saadi
9:86 - 9:87

اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور جہاد کرو ساتھ (مل کر) اس کے رسول کے تو اجازت مانگتے ہیں آپ سے مقدرت والے ان میں سے اور کہتے ہیں چھوڑ دیجیے ہمیں کہ ہوجائیں ہم ساتھ بیٹھنے والوں کے(86) راضی ہوگئے وہ اس پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کے اور مہر لگا دی گئی دلوں پر، پس وہ نہیں سمجھتے(87)

[86] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی دائمی کاہلی اور نیکیوں سے ان کے دائمی گریز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے نیز آگاہ فرماتا ہے کہ سورتیں اور آیات ان کے رویے پر کوئی اثر نہیں کرتیں ، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ وَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ ﴾ ’’اور جب اترتی ہے کوئی سورت‘‘ جس میں ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا ہو ﴿ اسۡتَاۡذَنَكَ اُولُوا الطَّوۡلِ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’تو رخصت مانگتے ہیں ان کے صاحب حیثیت لوگ‘‘ یعنی دولت مند اور مال دار لوگ جنھیں کسی قسم کا عذر نہیں اور جنھیں اللہ تعالیٰ نے مال اور بیٹوں سے نواز رکھا ہے۔ کیا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی تعریف نہیں کرتے اور واجبات کو قائم نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر واجب کر دیا ہے اور ان پر اپنا معاملہ سہل کر دیا ہے؟ مگر وہ سستی اور کاہلی کا شکار رہے اور پیچھے بیٹھ رہنے کی اجازت مانگتے رہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا ذَرۡنَا نَؔكُنۡ مَّعَ الۡقٰعِدِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ہمیں چھوڑدو! ہو جائیں (پیچھے) بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ۔‘‘
[87]﴿ رَضُوۡا بِاَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ ﴾ ’’وہ راضی ہو گئے اس بات پر کہ رہیں وہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ‘‘ وہ کیوں کر اس بات پر راضی ہوگئے کہ وہ ان خواتین کے ساتھ پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں جو جہاد کے لیے نہیں نکلیں ۔ کیا ان کے پاس کوئی عقل اور سمجھ ہے جو اس پر ان کی راہ نمائی کرے؟ ﴿وَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ یا ’’ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔‘‘ پس وہ کسی بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتے اور ان کے دل ان افعال کے ارادے سے خالی ہیں جو خیر و فلاح پر مشتمل ہیں ۔ پس وہ اپنے مصالح و مفاد کو نہیں سمجھتے۔ اگر وہ حقیقی سمجھ رکھتے ہوتے تو وہ اپنے لیے اس صورت حال پر کبھی راضی نہ ہوتے۔ جس نے ان کو جواں مردوں کے مقام سے نیچے گرا رکھا ہے۔