Tafsir As-Saadi
11:15 - 11:16

جو کوئی چاہتا ہے زندگی دنیا کی اور زینت اس کی تو ہم پوری دے دیتے ہیں انھیں جزا ان کے عملوں کی اسی (دنیا) میں اور وہ دنیا میں نہیں نقصان دیے جاتے (15) یہی ہیں وہ لوگ کہ نہیں واسطے ان کے آخرت میں مگر آگ ہی اور برباد ہوا وہ جو کچھ انھوں نے کیا تھا دنیا میں اور باطل (ضائع) ہو گیا جو تھے وہ عمل کرتے (16)

[15]﴿ مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا ﴾ ’’جو چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی رونق‘‘ یعنی جس شخص کا بھی ارادہ، دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت ہی کے گرد گھومتا ہے، مثلاً:عورتوں اور بیٹوں کے حصول کی خواہش، سونے اور چاندی کے خزانوں کی حرص، نشان زدہ گھوڑوں ، مویشیوں اور کھیتیوں کی چاہت، اس نے اپنی رغبت، عمل اور کوشش کو صرف انھی چیزوں پر مرکوز کر رکھا ہے اور وہ آخرت کے گھر کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایسا شخص کافر کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر وہ مومن ہوتا تو اس کا ایمان اسے اس بات سے روک دیتا کہ اس کا تمام ارادہ صرف دنیا ہی پر مرکوز رہے بلکہ اس کا ایمان اور اس کے اعمال، اس کے ارادۂ آخرت ہی کے آثار ہیں ۔ مگر یہ کافر بدبخت تو گویا صرف دنیا ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ﴿ نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’بھگتا دیں گے ہم ان کو ان کے عمل دنیا ہی میں ‘‘ یعنی ہم ان کو وہ دنیاوی ثواب عطا کر دیتے ہیں جو ان کے لیے لوح محفوظ میں لکھا ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ ﴾ ’’اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔‘‘ یعنی جو کچھ ان کے لیے مقرر کیا گیا ہوتا ہے اس میں ذرہ بھر کمی نہیں کی جاتی۔ مگر یہ ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کی منتہا ہے۔
[16]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ﴾ ’’یہی ہیں جن کے واسطے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آگ کے‘‘ وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے، ان کے عذاب میں کوئی وقفہ نہیں کیا جائے گا اور ثواب جزیل سے انھیں محروم کر دیا جائے گا۔ ﴿ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’اور برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے کیا دنیا میں ‘‘ یعنی وہ سب اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے جو وہ حق اور اہل حق کے خلاف سازشوں کے لیے کرتے رہے ہیں اور نیکی کے اعمال بھی باطل ہو جائیں گے جن کی کوئی اساس ہی نہیں اور ان کی قبولیت کی شرط بھی مفقود ہے اور وہ ہے ایمان۔