Tafsir As-Saadi
12:11 - 12:14

انھوں نے کہا، اے ابا جان! کیا ہے تجھے کہ نہیں امین سمجھتا تو ہمیں یوسف پر؟ حالانکہ یقینا ہم اس کے خیر خواہ ہیں (11) تو بھیج اسے ہمارے ساتھ کل، کہ وہ (فراخی سے) کھائے اور کھیلے کودے اور ہم اس کی یقینا حفاظت کرنے والے ہیں (12) یعقوب نے کہا، بے شک مجھے تو البتہ رنج میں ڈالتی ہے یہ بات کہ تم لے جاؤ اسےاور ڈرتا ہوں میں یہ کہ کھا جائے اسے بھیڑیا اور تم اس سے غافل ہو(13)انھوں نے کہا ، البتہ اگر کھاجائے اسے بھیڑیا، جبکہ ہم ایک (طاقتور) جماعت ہیں ، بلاشبہ ہم اس وقت یقینا خسارہ پانے والے ہوں گے (14)

[11] یعنی جناب یوسفu کے بھائیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰى يُوۡسُفَ ﴾ ’’اباجان! کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے۔‘‘ یعنی کون سی چیز بغیر کسی سبب اور موجب کے یوسفu کے بارے میں آپ کو ہم سے خائف کر رہی ہے اور حال یہ ہے کہ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَؔ ﴾ ’’ہم اس کے خیرخواہ ہیں ‘‘ یعنی ہم اس پر شفقت رکھتے ہیں اور ہم اس کے لیے وہی کچھ چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں ۔ برادران یوسف کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یعقوبu حضرت یوسفu کو ان کے بھائیوں کے ساتھ جنگل وغیرہ کی طرف نہیں جانے دیا کرتے تھے۔
[12] جب انھوں نے اپنے آپ سے اس تہمت کو رفع کر دیا جو یوسفu کو ان کے ساتھ بھیجنے سے مانع تھی تو انھوں نے یوسفu کے بارے میں اس مصلحت کا ذکر کیا جسے یعقوبu پسند کرتے تھے اور اس امر کا تقاضا کرتی تھی کہ وہ یوسفu کو ان کے ساتھ بھیج دیں تو کہنے لگے: ﴿ اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ﴾ ’’بھیج دو اس کو ہمارے ساتھ کل کو، خوب کھائے اور کھیلے‘‘ یعنی وہ جنگل میں تفریح کر کے وحشت دور کر لے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی ہم اس کا دھیان رکھیں گے اور ہر تکلیف دہ چیز سے اس کی حفاظت کریں گے۔
[13] یعقوبu نے جواب میں ان سے فرمایا: ﴿ اِنِّيۡ لَيَحۡزُنُنِيۡۤ اَنۡ تَذۡهَبُوۡا بِهٖ﴾’’تمھارا اس (یوسف) کو محض ساتھ لے جانا ہی مجھے غم زدہ کرتا ہے‘‘ اور مجھ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ میں اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا خواہ یہ تھوڑے سے وقت کے لیے ہی کیوں نہ ہو اور یہ چیز یوسفu کو تمھارے ساتھ بھیجنے سے مانع ہے اور دوسرا مانع یہ ہے ﴿وَاَخَافُ اَنۡ يَّاۡكُلَهُ الذِّئۡبُ وَاَنۡتُمۡ عَنۡهُ غٰفِلُوۡنَؔ﴾ ’’مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ تم اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔‘‘ تمھارے اس سے غفلت کرنے کی وجہ سے کیونکہ وہ چھوٹا ہے اور اپنی حفاظت نہیں کر سکتا۔
[14]﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ اَكَلَهُ الذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ﴾ ’’انھوں نے کہا، اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا اور ہم ایک قوی جماعت ہیں ‘‘ یعنی ہم ایک جماعت ہیں اور اس کی حفاظت کے حریص ہیں ۔ ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَؔ﴾ ’’تب تو ہم یقینا نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ یعنی اگر بھیڑیا یوسفu کو ہم سے چھین کر کھا جائے تب تو ہم میں کوئی بھلائی اور کوئی نفع نہیں جس کی امید کی جا سکے۔ جب انھوں نے اپنے باپ کے سامنے ان تمام اسباب کو تمہید کے ساتھ بیان کیا جو یوسفu کو ساتھ بھیجنے کے داعی تھے اور عدم موانع کا ذکر کیا تو یعقوبu نے حضرت یوسفu کو تفریح کے لیے ان کے ساتھ بھیج دیا۔