Tafsir As-Saadi
15:23 - 15:25

اور بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں (23)اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں ان لوگوں کو جو پہلے گزر چکے ہیں تم میں سےاور البتہ تحقیق جانتے ہیں ان لوگوں کو (بھی) جو پیچھے رہنے والے ہیں (24) اور بے شک آپ کا رب، وہی اکٹھا کرے گا انھیں ، بلاشبہ وہ بڑی حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (25)

[25-23] یہ اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے جو تمام خلائق کو عدم سے وجود میں لاتا ہے حالانکہ وہ اس سے قبل کچھ بھی نہ تھے اور ان کی مدت مقررہ پوری ہونے کے بعد ان کو موت دیتا ہے۔ ﴿ وَنَحۡنُ الۡوٰرِثُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ہی ہیں پیچھے رہنے والے‘‘ اللہ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی مانند ہے ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ الۡاَرۡضَ وَمَنۡ عَلَيۡهَا وَ اِلَيۡنَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾(مریم: 19؍40) ’’ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔‘‘ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل اور محال نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پہلے لوگوں کو بھی جانتا ہے اور اسے آنے والے لوگوں کا بھی علم ہے، زمین ان میں جو کمی واقع کر رہی ہے اور ان کے اجزا کو بکھیر رہی ہے، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے دست قدرت کو کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی۔ پس وہ اپنے بندوں کو دوبارہ نئے سرے سے پیدا کرے گا پھر ان کو اپنے حضور اکٹھا کرے گا ﴿اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ دانا، جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیاء کو ان کے لائق شان مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق حال مقام پر نازل کرتا ہے، وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدمu پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، حضرت آدمu کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چنانچہ فرمایا: