Tafsir As-Saadi
16:36 - 16:37

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے ہر امت میں رسول یہ کہ عبادت کروتم اللہ کی او ربچو تم طاغوت سے، پھر بعض ان میں سے وہ تھے جنھیں ہدایت دی اللہ نےاور بعض ان میں سے وہ تھے کہ ثابت ہو گئی ان پر گمراہی، پس سیر کرو تم زمین میں ، پھر دیکھو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا؟ (36) اگر حرص کریں آپ ان کو ہدایت پر لانے کی تو بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا اس کو جسے وہ گمراہ کرتا ہےاور نہیں ہے ان کے لیے کوئی مدد گار (37)

[36] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ تمام قوموں میں اس کی حجت قائم ہو چکی ہے، نیز یہ کہ متقدمین یا متاخرین میں کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول مبعوث نہ فرمایا ہو اور تمام رسول ایک دعوت اور ایک دین پر متفق تھے اور وہ ہے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ﴾ ’’صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (غیر اللہ کی عبادت) سے بچو۔‘‘ پس قومیں ، انبیاء کی دعوت کو قبول کرنے اور رد کرنے کی بنیاد پر دو گروہوں میں منقسم ہو گئیں ۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ هَدَى اللّٰهُ ﴾ ’’بعض ان میں سے وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی‘‘ پس انھوں نے علم و عمل کے لحاظ سے رسولوں کی اتباع کی ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَيۡهِ الضَّلٰلَةُ﴾ ’’اور بعض ان میں سے وہ ہیں جن پر گمراہی ثابت ہو گئی‘‘ پس انھوں نے گمراہی کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’پس تم (اپنے قلب و بدن کے ساتھ) زمین پر چلو پھرو۔‘‘ ﴿ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا‘‘ پس تم روئے زمین پر بڑی بڑی عجیب چیزوں کا مشاہدہ کرو گے۔ تم جھٹلانے والا کوئی ایسا شخص نہیں پاؤ گے جس کا انجام ہلاکت نہ ہو۔
[37]﴿ اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰى هُدٰؔىهُمۡ ﴾ ’’اگر آپ خواہش رکھیں ان کی ہدایت کی‘‘ اور اس بارے میں آپ اپنی جدوجہد صرف کریں ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ يُّضِلُّ ﴾ ’’تو اللہ اس کو ہدایت نہیں دیتا جس کو وہ گمراہ کر دے‘‘ اگرچہ وہ ہدایت کا ہر سبب ہی کیوں نہ استعمال کر لے، اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نہ نوازے گا۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ﴾ ’’اور ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ‘‘ جو اللہ کے عذاب کے مقابلے میں ان کی مدد کر سکیں اور ان کو اللہ کے عذاب سے بچا سکیں ۔