اور بیان کی اللہ نے مثال ایک بستی کی کہ تھی وہ بستی امن والی، چین والی، آتا تھا اس کے پاس رزق اس کا بافراغت ہرجگہ سے، پس ناشکری کی اس (کے باشندوں ) نے اللہ کی نعمتوں کی تو چکھایا انھیں اللہ نے لباس بھوک اور خوف کا بوجہ اس کے جو تھے وہ کرتے (112) اور البتہ تحقیق آیا ان کے پاس ایک رسول انھی میں سے، پس انھوں نے جھٹلایا اس کو تو آپکڑا ان کو عذاب نے اور وہ ظالم تھے (113)
[113,112] اس بستی سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جو امن کا گہوارہ اور اطمینان کی جگہ تھی، اس بستی میں کسی کو پریشان نہیں کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے جہلاء بھی اس کا احترام کرتے تھے حتیٰ کہ اس بستی میں کوئی شخص اپنے باپ یا بھائی کے قاتل کو بھی دیکھتا تو اس کا جذبۂ انتقام جوش نہیں مارتا تھا، حالانکہ ان میں عربی حمیت و تکبر بہت زیادہ تھا۔ مگر مکہ مکرمہ میں کامل امن تھا جو کسی اور شہر میں نہ تھا۔ اسی طرح اس کو کشادہ رزق سے بھی نوازا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ ایسا شہر تھا جہاں کھیتیاں تھیں نہ باغات بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رزق کو آسان کر دیا تھا، ہر سمت سے ان کو رزق پہنچتا تھا۔ پس ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا، جس کی صداقت اور امانت کو وہ خوب جانتے تھے جو انھیں کامل ترین امور کی طرف دعوت دیتا تھا اور انھیں بری باتوں سے روکتا تھا۔ مگر انھوں نے اسے جھٹلایا اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو امن و اطمینان کے برعکس بدامنی کا مزہ چکھایا، انھیں بھوک کا لباس پہنا دیا جو خوشحالی کی ضد ہے اور ان پر خوف طاری کر دیا جو امن کی ضد ہے۔ یہ سب ان کی بداعمالیوں ، ان کے کفر اور ان کی ناشکری کی پاداش میں تھا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَؔ﴾(النحل : 16؍33) ’’اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔‘‘