Tafsir As-Saadi
17:16 - 17:17

اور جب چاہتے ہیں ہم یہ کہ ہلاک کریں کسی بستی کو تو حکم دیتے ہیں ہم اس کے خوش حال لوگوں کو تو وہ نافرمانی کرتے ہیں اس میں پھر ثابت ہو جاتی ہے اس (بستی) پر بات (عذاب کی)، پس تباہ کر دیتے ہیں ہم اسے (مکمل) برباد کرنا (16) اور کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے قومیں بعد نوح کےاور کافی ہے آپ کا رب، اپنے بندوں کے گناہوں کی خوب خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا (17)

[16] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جب کبھی وہ کسی ظالم بستی کو ہلاک کرنا اور عذاب کے ذریعے سے اس کا استیصال کرنا چاہتا ہے تو وہ اس میں رہنے والے خوشحال لوگوں کو حکم دیتا ہے… یعنی کونی و قدری حکم… وہ اس میں نافرمانیاں کرتے ہیں اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے۔ ﴿ فَحَقَّ عَلَيۡهَا الۡقَوۡلُ ﴾ ’’تب ثابت ہو جاتی ہے ان پر بات‘‘ یعنی کلمۂ عذاب، جسے کوئی نہیں ٹال سکتا ﴿ فَدَمَّرۡنٰهَا تَدۡمِيۡرًا ﴾ ’’پس اس بستی کو ہم ہلاک کر کے رکھ دیتے ہیں ۔‘‘
[17] نوحu کی قوم کے بعد بہت سی قوموں کو اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا، مثلاً:عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ۔ یہ وہ قومیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سزا دی کیونکہ جب ان کی بغاوت بہت زیادہ ہو گئی اور ان کا کفر بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا بڑا عذاب نازل کر دیا۔ ﴿وَؔكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کافی ہے آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے والا دیکھنے والا۔‘‘ پس بندوں کو اس کی طرف سے کسی ظلم کا خوف نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف ان کے اپنے اعمال کی سزا دیتا ہے۔