اور جب نجات دی ہم نے تم کو آل فرعون سے، وہ دیتے تھے تمھیں سخت عذاب، ذبح کرتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری بیٹیوں کو اوراس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بڑی(49) اور جب پھاڑا ہم نے تمھاری وجہ سے سمندر کو، پھر نجات دی ہم نے تمھیں اورغرق کر دیا ہم نے آل فرعون کو اور تم دیکھ رہے تھے(50) اور جب وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) موسیٰ کے (طور پر جانے کے) بعد اور تم ظالم تھے(51) پھر معاف کر دیا ہم نے تم کو بعد اس کے، شاید کہ تم شکر کرو(52) اور جب دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے والی چیز، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(53) اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے،اے میری قوم! بے شک تم نے ظلم کیا اپنے آپ پر بوجہ بنا لینے تمھارے بچھڑے کو (معبود) پس توبہ کرو تم طرف اپنے پیدا کرنے والے کی اور قتل کرو تم اپنے آپ کو، یہ بہتر ہے تمھارے لیے نزدیک تمھارے پیدا کرنے والے کے ، پھر اللہ متوجہ ہوا تم پر، بلاشبہ وہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(54) اور جب کہا تم نے، اے موسیٰ! ہم ہرگز نہیں ایمان لائیں گے تجھ پر یہاں تک کہ دیکھ لیں ہم اللہ کو علانیہ (سامنے) پس پکڑ لیا تم کو بجلی (کے عذاب) نےاور تم دیکھ رہے تھے (55)، پھر زندہ کیا ہم نے تم کو، بعد تمھاری موت کے، شاید کہ تم شکر کرو(56) اور سایہ کیا ہم نےتم پربادلوں کا اور نازل کیا ہم نے تم پر من اور سلویٰ، کھاؤ تم (ان)پاکیزہ چیزوں سے، جو دیں ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرتے(57)
[54-49]﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ ﴾یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انھیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ﴿يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوٓءَ الۡعَذَابِ﴾ وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب ۔یعنی ایذا پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے﴿يُذَبِّحُوۡن اَبۡنَآءَ كُمۡ﴾ اور وہ یہ کہ تمھارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمھاری تعداد بڑھ نہ جائے ﴿وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَ كُمۡ﴾ ’’اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے‘‘ یعنی وہ تمھاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تمھاری حالت یہ تھی کہ یا تو تمھیں قتل کر دیا جاتا تھا یا تم سے مشقت کے کام لے کر تمھیں ذلیل کیا جاتا تھا۔ اور تمھیں احسان کے طور پر اور اظہار غلبہ کے لیے زندہ رکھا جاتا تھا۔ یہ توہین اور اہانت کی انتہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل نجات عطا کر کے اور ان کے آنکھوں دیکھتے ان کے دشمن کو غرق کر کے ان پر احسان فرمایا۔ تاکہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو۔ ﴿وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’اور اس میں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس نجات عطا کرنے میں ﴿بَلَآءٌ مِنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑا احسان ہے۔‘‘ پس یہ چیز تم پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے احکامات کی اطاعت کو واجب کرتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ(u)کے ساتھ چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان پر تورات نازل کرے گا جو عظیم نعمتوں اور مصالح عامہ کو متضمن ہو گی۔ پھر وہ اس میعاد کے مکمل ہونے تک صبر نہ کر سکے چنانچہ انھوں نے حضرت موسیٰuکے چلے جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کر دی ﴿وَاَنۡتُمۡ ظَالِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم ظالم تھے‘‘ یعنی اپنے ظلم کو جاننے والے۔ تم پر حجت قائم ہو گئی۔ پس یہ سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ ہے۔ پھر اس نے اپنے نبی موسیٰ(u)کی زبان پر تمھیں توبہ کرنے کا حکم دیا۔ اور اس توبہ کی صورت یہ تھی کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس سبب سے تمھیں معاف کر دیا ﴿لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔
[55]﴿وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يَامُوۡسٰي لَنۡ نُؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰي نَرَي اللّٰهَ جَهۡرَۃً﴾ ’’اور جب تم نے کہا، اے موسیٰ، ہم ہرگز تیری بات کا یقین نہیں کریں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کو سامنے دیکھ لیں‘‘ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقابلے میں تمھاری جرأت کی انتہا تھی ﴿ فَاَخَذَتۡكُمُ الصّٰؔعِقَةُ ﴾ پس تمھیں بے ہوشی نے آ لیا (اس بے ہوشی سے مراد) یا تو موت ہے یا عظیم بے ہوشی ہے ﴿وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ﴾ تم اس تمام واقعہ کو دیکھ رہے تھے، ہر شخص اپنے ساتھی کو دیکھ رہا تھا
[56]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنٰكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَوۡتِكُمۡ لَعَلَّـكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ پھر تمھارے مرنے کے بعد ہم نے تمھیں دوبارہ زندہ کیا شاید کہ تم شکر گزار بنو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جن سے اس نے بنی اسرائیل کو اس بیابان و صحرا میں نوازا جو سائے اور کھانے پینے کی چیزوں کی فراوانی سے خالی تھا۔
[57] فرمایا: ﴿وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكُمُ الۡمَنَّ ﴾ ’’پھر ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تم پر مَنّ نازل کیا۔‘‘ ﴿اَلۡمَنَّ﴾ ہر قسم کے اس رزق کے لیے ایک جامع نام ہے جو بغیر کسی جدوجہد کے حاصل ہوتا ہو، مثلاً سونٹھ، کھمبی اور خبنر (روٹی)(ایک قسم کی نباتات) وغیرہ ﴿وَالسَّلۡوٰي﴾ ایک چھوٹا سا پرندہ تھا جسے ’’سمانی‘‘ (ایک قسم کی بٹیر) کہا جاتا ہے اس کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے۔ پس یہ من اور سلویٰ اس مقدار میں ان پر اترتے کہ ان کی خوراک کے لیے کافی ہوتے ﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ ’’ان پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں۔‘‘ یعنی ہم نے تمھیں ایسا رزق عطا کیا ہے کہ اس جیسا رزق آسودہ حال شہروں کے باشندوں کو بھی حاصل نہیں۔ مگر انھوں نے اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا اور ان کے دلوں کی سختی اور گناہوں کی کثرت بدستور قائم رہی۔ ﴿وَمَا ظَلَمُوۡنَا﴾ یعنی انھوں نے ہمارے احکام کے برعکس مخالف افعال کا ارتکاب کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا۔ کیونکہ اہل معاصی کی معصیت اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ جیسے اطاعت گزاروں کی اطاعت اسے فائدہ نہیں پہنچاتی۔ ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’لیکن وہ اپنے ہی نفسوں پر ظلم کرتے تھے‘‘ یعنی اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔