یہ سب رسول، فضیلت دی ہم نے ان کے بعض کو بعض پر، کچھ ان میں سے ایسے ہیں جن سے کلام فرمایا اللہ نےاور بلند کیا ان کے بعض کو درجوں میں اور دیے ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو واضح دلائل (معجزات) اور قوت دی ہم نے اس کو ساتھ روح القدس (جبریل) کےاور اگر چاہتا اللہ تو نہ باہم لڑتے وہ لوگ جو ہوئے ان (رسولوں) کے پیچھے، بعد اس کے کہ آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں لیکن انھوں نے اختلاف کیا، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لائے اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے کفر کیااور اگر چاہتا اللہ تو وہ باہم نہ لڑتے لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے(253)
[253] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض رسولوں کو دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ پہلے تو انھیں تمام لوگوں پر فضیلت عطا فرمائی کہ ان کی طرف وحی نازل کرکے انھیں دوسروں کی طرف مبعوث فرمایا، اور انھوں نے مخلوق کو اللہ کی طرف بلایا۔ پھر انھیں ایک دوسرے پر فضیلت دی کہ ان میں خاص خوبیاں رکھ دیں، ان سے بہت زیادہ انسانوں کو فائدہ پہنچا۔ مثلاً موسیٰuکو ہم کلام ہونے کا خاص شرف عطا فرمایا۔ اور ہمارے نبیﷺکو دوسرے انبیاء سے افضل بنایا اور آپ میں وہ تمام فضائل جمع فرمادیے جو دوسرے رسولوں کو الگ الگ ملے تھے۔ اور آپ کو ایسے مناقب بخشے جن کی وجہ سے آپ اولین اور آخرین سے اشرف قرار پائے۔ ﴿ وَاٰتَيۡنَا عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ الۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے۔‘‘ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور مریم کی طرف نازل ہونے والا اللہ کا کلمہ، اور اس کی طرف سے آنے والی ایک روح ہیں۔ ﴿وَاَيَّدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ﴾ ’’او رروح القدس سے ہم نے ان کی تائید کی۔‘‘ اس سے مراد ایمان اور یقین ہے جس کے ذریعے سے ان کو وہ فریضہ انجام دینے کی طاقت حاصل ہوئی، جو آ پ پر عائد کیا گیا تھا۔ایک قول کے مطابق روح القدس سے مراد جبریلuہیں، جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقۡتَـتَلَ الَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنٰتُ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے۔‘‘ بلکہ ان دلائل کی وجہ سے سب مومن اور متحد ہوجاتے۔ ﴿ وَلٰكِنِ اخۡتَلَفُوۡا فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ كَفَرَ﴾ ’’لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا۔ ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر۔‘‘ پس اس اختلاف کے نتیجے میں افتراق، دشمنی اور لڑائی ہوئی۔ اس کے باوجود اگر اللہ چاہتا تو اختلاف کے باوجود لڑائی تک نوبت نہ پہنچتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی مرضی اسباب پر غالب ہے۔ اسباب کا فائدہ تبھی ہوتا ہے جب مشیت اس کے برعکس نہ ہو۔ جب مشیت آجائے تو ہر سبب کالعدم ہوجاتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيۡدُ﴾ ’’لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔‘‘ اس کا ارادہ غالب ہے، اس کی مرضی پوری ہوکر رہتی ہے۔ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ازل سے اپنی مشیت اور حکمت کے تقاضوں کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور وہ جو کچھ کرتا ہے اس میں سے بعض کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ مثلاً استوا، نزول، کلام اور وہ افعال جنھیں ’’افعال اختیاریہ‘‘ کہا جاتا ہے۔فائدہ: جس طرح اللہ کی پہچان حاصل کرنا فرض ہے۔ اسی طرح رسولوں کے بارے میں علم حاصل کرلینا بھی ضروری ہے، ان کی لازمی صفات کیا ہیں، کیا کچھ ان کے لیے محال ہے اور کیا کچھ ممکن ہے۔ ان امور کا علم قرآن مجید کی متعدد آیات سے ہوتا ہے۔ مثلاً رسول مرد ہیں عورتیں نہیں، وہ بستیوں میں رہنے والوں میں سے مبعوث ہوئے ہیں، خانہ بدوشوں میں سے نہیں۔ وہ اللہ کے منتخب اور پسندیدہ بندے ہوتے ہیں، ان میںایسی خوبیاں موجود ہوتی ہیں جو انھیں اس انتخاب کا اہل بنا دیتی ہیں۔ ان میں کوئی ایسی خرابی نہیں ہوتی جو منصب رسالت کے منافی ہو۔ مثلاً جھوٹ، خیانت، حق کو چھپانا، اور قابل نفرت جسمانی عیوب۔ ان سے اگر کوئی ایسی فروگزاشت ہوجائے جو منصب رسالت سے متعلق ہو، تو فوراً اصلاح کردی جاتی ہے۔ اللہ نے انھیں وحی کے لیے مخصوص فرمایا ہے اس لیے ان پر ایمان لانا، اور ان کی اطاعت کرنا فرض ہے۔ جو شخص کسی نبی پر تنقید کرے یا اس کی شان میں گستاخی کرے، وہ کافر ہوجاتا ہے، اور اسے قتل کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ ان تمام مسائل کے دلائل بہت زیادہ ہیں۔ جو شخص قرآن مجید میں غور و فکر کرے گا اس پر حق واضح ہوجائے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہے: