Tafsir As-Saadi
21:96 - 21:97

یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج اور ماجوج اور وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے ہوں گے (96) اور قریب آپہنچے گا وعدہ سچا (قیامت کا)، پس ناگہاں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی آنکھیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا (اور وہ کہیں گے) ہائے ہماری کم بختی! تحقیق تھے ہم غفلت میں اس (قیامت) سےبلکہ تھے ہم ہی ظالم (97)

[96] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے لیے تحذیر ہے کہ وہ اپنے کفر اور معاصی پر جمے نہ رہیں ۔ یاجوج و ماجوج کے کھلنے کا وقت قریب ہے اور یاجوج و ماجوج بنی آدم کے دو قبیلوں کا نام ہے۔ جب ذوالقرنین سے ان کے فساد فی الارض کا شکوہ کیا گیا تو اس نے درے کو دیوار کے ذریعے بند کر کے ان کا راستہ مسدود کر دیا۔ آخری زمانے میں یہ درہ کھل جائے گا اور وہ اس طرح لوگوں کی طرف نکلیں گے جیسے اللہ نے یہاں ذکر فرمایا ہے کہ وہ نہایت تیزی سے ہر ٹیلے سے نیچے اترتے نظر آئیں گے۔ یہ آیت کریمہ ان کی کثرت اور نہایت تیزی کے ساتھ ان کے زمین میں پھیل جانے پر دلالت کرتی ہے۔ ان کی نقل و حرکت میں سرعت یا تو اس وجہ سے ہو گی کہ وہ جسمانی اعتبار سے نہایت پھرتیلے اور سریع الحرکت ہوں گے یا اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ان اسباب کی وجہ سے، جو دور کی مسافتوں کو قریب اور آسان کر دیں گے۔ وہ لوگوں پر قہر بن کر ٹوٹیں گے اور اس دنیا میں ان پر غالب آ جائیں گے، نیز یہ کہ کسی کے اندر ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔
[97]﴿ وَاقۡتَرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور قریب آ لگے گا برحق وعدہ۔‘‘ یعنی قیامت کا دن، جس کے آنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر کھا ہے اور اس کا وعدہ سچا اور برحق ہے۔ پس اس روز گھبراہٹ، خوف اور دہلا دینے والے زلزلوں سے کفار کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی کیونکہ انھیں اپنے جرائم اور گناہوں کا علم ہو گا۔ وہ موت کو پکاریں گے اور اپنی کوتاہیوں پر ندامت اور حسرت کا اظہار کریں گے، کہیں گے:﴿ قَدۡ كُنَّا فِيۡ غَفۡلَةٍ مِّنۡ هٰؔذَا﴾ ’’ہم اس عظیم دن سے غافل تھے‘‘ پس دنیا کے لہوولعب میں مستغرق رہے حتیٰ کہ فرشتہ اجل آ گیا اور ہم قیامت کی گھاٹی میں اتر گئے۔ اگر کوئی حسرت و ندامت کی وجہ سے مرتا ہو تو وہ ضرور مرتے۔ وہ کہیں گے ﴿ بَلۡ كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم ہی ظالم تھے۔‘‘ وہ اپنے ظلم اور اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اعتراف کریں گے۔ اس وقت حکم دیا جائے گا کہ انھیں اور ان کے ان معبودوں کو جہنم میں جھونک دو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا: