Tafsir As-Saadi
28:68 - 28:70

اور آپ کا رب پیدا کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور (جو) وہ پسند کرتا ہے، نہیں ہے ان (لوگوں ) کے لیے کوئی اختیار، پاک ہے اللہ اور وہ برتر ہے ان سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (68)اور آپ کا رب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں سینے ان کے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (69) اور وہی ہے اللہ، نہیں کوئی اور الٰہ مگر وہی، اسی کے ہے تمام حمد دنیا اور آخرت میں اور اسی کا ہے حکم،اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (سب)(70)

[70-68] اللہ تبارک وتعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا پھر ان میں اپنی مشیت نافذ کی اور وہ اپنے اختیار میں متفرد ہے۔ وہ اشخاص، اوامر، ازمان اور اماکن میں سے جو چاہتا ہے چن کر مختص کر لیتا ہے کسی کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں ، مددگاروں ، اولاد اور بیوی وغیرہ سے منزہ اور مبرا ہے جنھیں یہ مشرکین اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو خوب جانتا ہے جنھیں یہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جنھیں یہ ظاہر کرتے ہیں ۔ وہ اکیلا ہی دنیا و آخرت میں اپنی صفات جمال و کمال اور اپنی مخلوق پر احسان و اکرام کی بنا پر مستحق عبادت اور لائق ستائش ہے۔ وہی دنیا و آخرت میں فیصلے کرنے والا ہے، دنیا میں اپنے حکم کونی و قدری کے مطابق فیصلے کرتا ہے جو تمام مخلوق میں جاری و ساری ہیں اور وہ اپنے حکم دینی کے مطابق فیصلے کرتا ہے جس سے تمام شرائع اوامر و نواہی وجود میں آتے ہیں ۔ وہ آخرت میں بھی اپنے حکم قدری و جزائی کے مطابق فیصلے کرے گا اس لیے فرمایا:﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ تب وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے عمل کی جزا دے گا۔