Tafsir As-Saadi
3:10 - 3:11

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں کام آئیں گے ان کے مال ان کے اور نہ ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی اور یہی لوگ ایندھن ہیں آگ کا(10) مانند عادت آل فرعون کے اور ان لوگوں کے جو ان سے پہلے تھے، جھٹلایا انھوں نے ہماری آیتوں کو، پس پکڑ لیا ان کو اللہ نے بہ سبب ان کے گناہوں کے،اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(11)

[11,10] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرنے والے، اس کے دین اور اس کی کتاب کا انکار کرنے والے، اپنے کفر اور گناہوں کی وجہ سے سزا اور سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ وہاں انھیں اپنے مالوں اور اولادوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگرچہ دنیا میں وہ آنے والی مصیبتوں کا ان کے ذریعے سے مقابلہ کرلیا کرتے تھے۔ اور کہا کرتے تھے ﴿ نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا١ۙ وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾(النساء:34؍35) ’’ہمارے مال اور ہماری اولادیں زیادہ ہیں۔ ہمیں عذاب نہیں ہوگا‘‘ قیامت کے دن انھیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی انھیں بالکل توقع نہ ہوگی۔ ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾(الزمر:39؍48) ’’ان کے کمائے ہوئے اعمال کا برا انجام ان کے سامنے آجائے گا اور انہیں وہ عذاب گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے‘‘ اللہ کے ہاں مال اور اولاد کی قدر نہیں، بلکہ بندے کو اللہ پر ایمان لانے کا اور نیک اعمال کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ جیسے ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا١ٞ فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ جَزَآءُ الضِّعۡفِ بِمَا عَمِلُوۡا وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ﴾(سبا:34؍37) ’’تمھارے مال اور تمھاری اولاد وہ چیز نہیں جو تمھیں ہمارا قرب بخشتی ہیں بلکہ جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے انھی لوگوں کو اپنے اعمال کا دگنا بدلہ ملے گا، اور وہ بالا خانوں میں امن سے رہیں گے‘‘ اللہ نے بیان فرمایا ہے کہ کافر جہنم کا ایندھن ہیں، یعنی ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ قانون کہ کافروں کو ان کے مالوں یا اولادوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکے گا، گزشتہ امتوں میں بھی اللہ کا یہی قانون جاری رہاہے۔ فرعون، اس سے پہلے اور اس کے بعد آنے والے سب جابر، سرکش، مالوں اور لشکروں والے، ان سب کے ساتھ یہی ہوا کہ جب انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات تسلیم کرنے سے انکار کیا، اور ان سے دشمنی کی، اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں پکڑ لیا، یہ اس کا عدل تھا، ظلم نہیں۔ جو کوئی ایسا کام کرے جو سزا کا مستوجب ہے تو اللہ اسے سخت سزا دے دیتا ہے۔ عذاب کا یہ سبب کفر بھی ہوسکتا ہے، اور دوسرے گناہ بھی جن کی مختلف قسمیں اور بہت سے مراتب ہیں۔