اور جب پہنچتی ہے لوگوں کو کوئی تکلیف تو وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو رجوع کرتے ہوئے اسی کی طرف، پھر جب وہ چکھاتا ہے انھیں اپنی طرف سے رحمت تو ناگہاں کچھ لوگ ان میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرتے ہیں(33) تاکہ وہ انکار کریں اس (نعمت) کا جو ہم نے انھیں دی، سو فائدہ اٹھا لو تم، پس عنقریب جان لو گے تم(34)کیا نازل کی ہے ہم نے ان پر کوئی (ایسی) دلیل کہ وہ بتلاتی ہے (ان کو )وہ چیز کہ ہیں وہ ساتھ اس کے شریک ٹھہراتے؟ (35)
[33، 34]﴿وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ ﴾ ’’اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی مرض یا ہلاکت کا خوف وغیرہ ﴿دَعَوۡا رَبَّهُمۡ مُّنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ ﴾ ’’تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔‘‘ اور اس حال میں وہ اپنے اس شرک کو فراموش کر دیتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان کی تکلیف کو دور کر سکے۔ ﴿ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمۡ مِّؔنۡهُ رَحۡمَةً ﴾ ’’ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے۔‘‘ یعنی ان کو ان کی بیماری سے شفایاب اور ہلاکت کے خوف سے نجات دیتا ہے ﴿اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ تو ان میں سے ایک فریق اس انابت کو ترک کرتے ہوئے جو اس سے صادر ہوئی تھی، ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتا ہے جو ان کی خوش بختی اور بدبختی، ان کے فقر اور غنا پر کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ یہ سب کچھ ان احسانات و عنایات کی ناشکری ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا، شدت اور تکلیف سے ان کو بچایا اور مشقت کو ان سے دور کیا۔ تب انھوں نے اس نعمت جلیلہ کو اپنے تمام احوال میں شکر اور دائمی اخلاص کے ساتھ کیوں قبول نہ کیا؟
[35]﴿اَمۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنًا ﴾ ’’کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے‘‘یعنی کوئی ظاہری دلیل ﴿فَهُوَ ﴾ ’’کہ وہ‘‘ دلیل ﴿يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوۡا بِهٖ يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ ان کو اللہ کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔‘‘ اور انھیں کہتی ہے کہ اپنے شرک پر قائم رہو، اپنے شک پر جمے رہو، تمھارا موقف حق ہے اور جس چیز کی طرف تمھیں انبیاء و مرسلین دعوت دیتے ہیں وہ باطل ہے۔ کیا کوئی ایسی دلیل تمھارے پاس موجود ہے جو شرک کو سختی کے ساتھ پکڑے رکھنے کی موجب ہے؟ یا اس کے برعکس تمام عقلی و نقلی دلائل، تمام کتب الٰہیہ، تمام انبیاء ومرسلین اور بڑے بڑے لوگ شرک سے نہایت شدت سے روکتے ہیں اور ان تمام راستوں پر چلنے سے باز رکھتے ہیں جن کی منزل شرک ہے اور ایسے شخص کی عقل و دین کے فساد کا حکم لگاتے ہیں جو شرک کا ارتکاب کرتا ہے؟ پس ان مشرکین کا شرک، جس پر کوئی دلیل اور برہان نہیں، محض خواہشات نفس کی پیروی اور شیطانی وسوسے ہیں۔