Tafsir As-Saadi
30:48 - 30:50

اللہ وہ ذات ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں، پس وہ اٹھاتی ہیں بادل، پھر پھیلاتا ہے اللہ اس کو آسمان میں جس طرح وہ چاہتا ہے، اور وہ کر دیتا ہے اس کو ٹکڑے ٹکڑے، پھر دیکھتے ہیں آپ بارش کو وہ نکلتی ہے اس کے درمیان سے، پس جب وہ پہنچاتا (برساتا) ہے اسے جس پر چاہتاہے اپنے بندوں میں سے تو اس وقت وہ خوش ہو جاتے ہیں (48) اور بلاشبہ تھے وہ ، پیشتر اس کے کہ وہ نازل ہو ان پر اس سے پہلے، البتہ ناامید (49) پس دیکھیں آپ اللہ کی رحمت کے آثار کی طرف، کیسے وہ زندہ (آباد) کرتا ہے زمین کو بعد اس کی موت (ویرانی) کے، بلاشبہ وہی البتہ زندہ کرنے والا ہے مردوں کو، اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (50)

[48، 49] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور نعمت تامہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ﴿يُرۡسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيۡرُ سَحَابًا ﴾ ’’وہ ہواؤ ں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں‘‘ زمین سے ﴿فَيَبۡسُطُهٗ فِي السَّمَآءِ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے۔ ﴿كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ جس حالت میں چاہتا ہے ﴿وَيَجۡعَلُهٗ﴾ ’’اور اس کو کردیتا ہے‘‘ یعنی اس لمبے چوڑے بادل کو ﴿كِسَفًا ﴾ ایک گہرا بادل بنا دیتا ہے جو ایک دوسرے کے اوپر جما ہوا ہوتا ہے۔ ﴿فَتَرَى الۡوَدۡقَ يَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِهٖ﴾ پھر تم اس بادل میں سے چھوٹے چھوٹے قطرے گرتے دیکھتے ہو۔ بارش کے یہ قطرے بیک وقت نہیں گرتے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ یہ قطرے جس پر گریں اسے خراب کر دیں۔ ﴿فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جب اسے برسا دیتا ہے‘‘ یعنی یہ بارش ﴿مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠﴾ ’’اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے، تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔‘‘ وہ بارش برسنے پر ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں کیونکہ وہ بارش کے سخت ضرورت مند تھے۔﴿وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ قَبۡلِهٖ لَمُبۡلِسِيۡنَ ﴾ وہ اس سے پہلے بارش میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سخت مایوس تھے۔ جب اس حالت میں بارش برستی ہے تو یہ ان کے لیے انتہائی خوشی کا موقع بن جاتا ہے۔
[50]﴿فَانۡظُرۡ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحۡمَتِ اللّٰهِ كَيۡفَ يُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾ ’’پس اب اللہ کی اس رحمت کے نتائج پر غور کیجیے کہ وہ کیسے زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔‘‘ زمین لہلہانے لگتی ہے اور وہ قسم قسم کی خوبصورت نباتات اگاتی ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ وہ ہستی جو زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے زندہ کرتی ہے ﴿لَمُحۡيِ الۡمَوۡتٰى١ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’مردوں کو زندہ کرنے والی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کبھی کسی چیز سے قاصر نہیں رہی اگرچہ اس کی قدرت مخلوق کی عقل و فہم سے باریک تر ہوتی ہے۔ ان کی عقل اس کی قدرت کے کرشموں سے حیران ہو جاتی ہے۔