Tafsir As-Saadi
31:25 - 31:28

اور البتہ اگرپوچھیں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے ،کہہ دیجیے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(25) اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ، وہ بے نیاز ہے تعریف کے لائق(26) اور اگر بے شک جو کچھ زمین میں ہیں درختوں سے (وہ) قلمیں ہو جائیں اور سمندر (سیاہی) زیادہ کریں اس (سیاہی) کو اس کےبعد سات سمندر (اور) تو بھی نہ ختم ہوں کلمات اللہ کے، بے شک اللہ نہایت غالب، خوب حکمت والا ہے(27) نہیں ہے پیدا کرنا تمھارا اور نہ دوبارہ اٹھانا تمھارا، مگر مانند ایک جان کے، بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے(28)

[25] اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں: ﴿مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے ﴿قُلِ ﴾ ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ جس نے نور کو واضح کر دیا اور خود تمھاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کر دیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انھیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد ہے لیکن ﴿اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان میں اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے انھوں نے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرایا، بصیرت کی بنا پر نہیں بلکہ حیرت اور شک کی بنا پر وہ اپنے مذہب کے تناقض پر راضی ہو گئے۔
[26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت اوصاف کے نمونے کے طور پر ان دو آیتوں کا ذکر فرمایا تاکہ وہ اپنے بندوں کو اپنی معرفت، محبت اور دین میں اخلاص کی دعوت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی ملکیت کا ذکر کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے... یہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی کو شامل ہے... سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ وہ احکام کونی و قدری، احکام دینی و امری اور احکام جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی مملوک ہے جو اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے اور وہ کسی چیز کی مالک نہیں۔ وہ بے حد بے نیاز ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے۔ ﴿مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ ﴾(الذّٰریٰت:51؍57) ’’میں ان سے رزق طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔‘‘ نیز انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے اعمال اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ان کے اعمال کا فائدہ صرف انھی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے بے نیاز ہے۔ یہ اس کی بے نیازی ہے کہ اس نے انھیں ان کی دنیا و آخرت میں بے نیاز بنا دیا اور ان کے لیے وہ کافی ہوگیا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت حمد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ اس کی حمد و ثنا اس کی ذات کا لازمہ ہے وہ ہر لحاظ ہی سے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں قابل تعریف ہے۔ اس کی صفات میں سے ہر صفت کامل ترین حمد وثنا کی مستحق ہے کیونکہ یہ عظمت وکمال پر مبنی صفات ہیں۔ اس کے تمام افعال اور اس کی تمام تخلیقات قابل تعریف اور اس کے تمام اوامر و نواہی قابل ستائش ہیں۔ وہ تمام فیصلے اور احکام جو اس نے دنیا وآخرت میں اپنے بندوں پر اور بندوں کے درمیان نافذ کیے ہیں، ان پر وہ قابل حمدوستائش ہے۔
[27] اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی وسعت اور اپنے قول کی عظمت کو ایسی شرح کے ساتھ بیان کیا جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے، جس سے عقل و خرد حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور عقل مند اور اصحاب بصیرت اس کی معرفت میں سیاحت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ﴾ ’’اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں۔‘‘ جن کے ساتھ لکھا جائے ﴿وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ ﴾ ’’اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور‘‘ روشنائی بن جائیں جن سے لکھنے میں مدد لی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور یہ روشنائی ختم ہو جائے گی لیکن ﴿كَلِمٰتُ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھنے سے کبھی ختم نہ ہوں گی۔یہ مبالغہ نہیں ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ عقل انسانی اللہ کی بعض صفات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے اس کی معرفت سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے انھیں سرفراز کیا ہے اور سب سے بڑی منقبت ہے جو انھیں حاصل ہوئی ہے جس کا کامل طور پر ادراک ممکن نہیں، مگر جس چیز کا کامل ادراک ممکن نہ ہو اس کو کامل طور پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میں سے بعض صفات کی طرف اس طرح توجہ دلائی ہے جس سے ان کے قلب منور ہوتے ہیں اور انھیں شرح صدر حاصل ہوتی ہے وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے جس پر وہ نہیں پہنچے، اس چیز سے راہ نمائی لیتے ہیں جس تک وہ پہنچ چکے ہیں۔ اور وہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے ان میں سے بہترین انسان اور اپنے رب کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی ہستی نے کہا: ’لَا نُحْصِي ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ،(اصل لفظ (لَا اُحْصِي) ہے اور یہ مؤلفa کی سبقت قلم ہے) ’’ہم تیری ثنا بیان نہیں کر سکتے، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔‘‘(صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟، ح: 486) ورنہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے جلیل تر اور عظیم تر ہے۔یہ تمثیل ان معانی کو قریب کرنے کے باب میں سے ہے جہاں تک پہنچنے کی ذہن اور فہم طاقت نہیں رکھتا۔ ورنہ اگر درختوں کو کئی گنا کر لیا جائے اور سمندروں کو بھی کئی گنا کر کے ان کی روشنائی بنا لی جائے تب بھی ان کے ختم ہونے کا تو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہیں... رہا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام، تو اس کے ختم ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ عقلی اور نقلی دلیل دلالت کرتی ہے کہ اس کا کلام ختم ہوتا ہے نہ اس کی کوئی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے سوا باقی ہر چیز کی انتہا ہے۔ ﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰى ﴾(النجم:53؍42) ’’اور تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے۔‘‘ جب عقل اللہ تعالیٰ کی ’’اولیت‘‘ اور ’’آخریت‘‘ کا تصور کرے تو، ذہن گزرے ہوئے زمانوں کو فرض کرے۔ وہ ازمان گزشتہ کا جتنا بھی اندازہ لگائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی پہلے ہے جس کا کوئی منتہیٰ نہیں۔ اسی طرح عقل وذہن میں آنے والے زمانوں کے بارے میں خواہ کتنا ہی اندازہ کر لیں اور قلب و زبان کے ذریعے سے اس کی مدد بھی لے لیں، اللہ تعالیٰ ان کے ان اندازوں سے بھی زیادہ متأخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تمام اوقات میں فیصلہ کرتا ہے، کلام کرتا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنا قول و فعل صادر کرتا ہے اسے اپنے اقوال و افعال سے کوئی چیز مانع نہیں۔ جب عقل نے اس حقیقت کا تصور کر لیا تو معلوم ہوا کہ یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ضمن میں بیان کی ہے صرف اس لیے ہے کہ بندوں کو اس کا تھوڑا سا ادراک ہو جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس سے عظیم تر اور جلیل تر ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کے جلال اور کمال حکمت کا ذکر کیا فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی تمام عزت و غلبے کا وہی مالک ہے تمام عالم علوی اور عالم سفلی میں جو بھی قوت پائی جاتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے، وہی ہے جس کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے۔ وہ اپنے غلبے کے ذریعے سے تمام مخلوق پر غالب ہے، ان میں تصرف اور ان کی تدبیرکرتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ اس تخلیق سے اس کی غرض و غایت اور مقصد بھی حکمت ہی ہے اسی طرح امرونہی بھی اس کی حکمت ہی سے وجود میں آئے ہیں، اور ان کو وجود میں لانے کی غایت مقصود بھی حکمت ہی ہے۔ پس وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظیم اور کامل قدرت کا ذکر فرمایا جس کا عقل تصور تک نہیں کر سکتی۔ پس فرمایا: ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور اٹھانا)‘‘ اور یہ ایسی چیز ہے جو عقل کو حیران کر دیتی ہے۔ تمام مخلوق کی تخلیق... ان کی کثرت کے باوجود اور ان کی موت کے بعد ان کے بکھر جانے کے باوجود ان کو ایک لمحہ میں دوبارہ زندہ کرنا… ایسے ہی ہے جیسے اس نے صرف ایک نفس کو پیدا کیا ہو۔ اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور پھر اعمال کی جزا دینے کو بعید سمجھنا اللہ تعالیٰ کی عظمت، قوت اور قدرت کے بارے میں جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسموعات کو سنتا اور تمام مرئیات کو دیکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘