Tafsir As-Saadi
30:55 - 30:57

اور جس دن قائم ہو گی قیامت قسمیں کھائیں گے مجرم کہ نہیں ٹھہرے وہ سوائے گھڑی بھر کے، اسی طرح تھے وہ (دنیا میں) پھیرے جاتے (حق سے)(55) اور کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم اور ایمان البتہ تحقیق ٹھہرے تھے تم اللہ کی کتاب (لوح محفوظ) میں دوبارہ اٹھنے کے دن (قیامت) تک، سو یہی ہے دن دوبارہ اٹھنے کا اور لیکن تھے تم نہیں جانتے (56)پس اس دن نہیں فائدہ دے گی ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا معذرت ان کی، اور نہ ان سے توبہ طلب کی جائے گی (57)

[55] اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ بہت جلد آنے والا ہے اور جب قیامت قائم ہو گی تو ﴿يُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’مجرم اللہ کی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے‘‘ کہ بلاشبہ وہ ﴿مَا لَبِثُوۡا ﴾ ’’نہیں رہے تھے‘‘ دنیا میں ﴿غَيۡرَ سَاعَةٍ ﴾ ’’سوائے ایک گھڑی کے‘‘ وہ یہ عذر اس لیے پیش کریں گے کہ شاید دنیا کی مدت کو کم کہنا انھیں کوئی فائدہ دے۔چونکہ ان کی یہ بات جھوٹ پر مبنی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ، لہٰذا اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿كَذٰلِكَ كَانُوۡا يُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’وہ اسی طرح غلط انداز ے لگایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی وہ دنیا کے اندر بھی ہمیشہ حقائق کو چھوڑ کر کذب بیانی کرتے رہے اور جھوٹ گھڑتے رہے، دنیا کے اندر انھوں نے حق کی تکذیب کی جسے انبیائے کرام لے کر آئے تھے اور آخرت میں وہ امرمحسوس، یعنی دنیا کے اندر طویل مدت تک رہنے کا انکار کریں گے۔ یہ ان کا بدترین خلق ہے اور بندہ اسی عادت اور ہیئت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرے گا۔
[56]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَالۡاِيۡمَانَ ﴾ ’’اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے۔‘‘ یعنی جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے ان دو چیزوں کے ساتھ احسان کیا اور حق کا علم اور وہ ایمان جو حق کی ترجیح کو مستلزم ہے ان کا وصف بن گیا۔ جب انھوں نے حق کو جان لیا اور حق کو ترجیح دی تو لازم ہے کہ ان کا قول واقع اور ان کے احوال کے مطابق ہو، بنا بریں وہ حق بات کہیں گے:﴿لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِيۡ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’تم اللہ کی کتاب کے مطابق رہے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضاوقدر کے مطابق، جو اس نے اپنے حکم میں تمھارے لیے مقرر کر دی تھی ﴿اِلٰى يَوۡمِ الۡبَعۡثِ ﴾ ’’قیامت تک‘‘ یعنی تمھیں اس قدر عمر دی گئی تھی کہ جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرسکتا تھا، تدبر کرنے والا اس میں تدبر کرسکتا تھا اور عبرت پکڑنے والا اس میں عبرت پکڑسکتا تھا حتی کہ قیامت آگئی اور تم اس حال کو پہنچ گئے۔ ﴿فَهٰذَا يَوۡمُ الۡبَعۡثِ وَلٰكِنَّكُمۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’پس یہ یوم قیامت ہے، لیکن تم (اسے حق) نہیں جانتے تھے۔‘‘ اس لیے تم نے اس کا انکار کیا، تم نے دنیا میں ایک مدت تک کے لیے اپنے قیام کا انکار کیا جس میں توبہ اور انابت تمھارے بس میں تھی، مگر جہالت اور اس کے آثار، یعنی تکذیب تمھارا شعار اور خسارہ تمھارا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔
[57]﴿فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ ﴾ ’’یقیناً اس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہیں دے گی‘‘ یعنی اگر وہ جھوٹ بولتے ہوئے یہ سمجھیں کہ ان پر حجت قائم نہیں ہوئی یا ایمان لانا ان کے بس میں نہ تھا تو اہل علم و ایمان کی گواہی بلکہ خود ان کی اپنی کھالوں، ان کے ہاتھوں اور پاؤ ں کی گواہی سے ان کو جھٹلا دیا جائے گا۔ اگر وہ معذرت کی اجازت چاہیں کہ ان کو اب واپس لوٹا دیا جائے تو وہ ایسا کام ہرگز نہیں کریں گے جس سے انھیں روکا گیا ہے... تو ان کی معذرت قبول نہ کی جائے گی۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی‘‘ یعنی وہ ہمیشہ زیر عتاب رہیں گے۔