اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں، پھر وہ مستوی ہو گیا عرش پر نہیں ہے تمھارے لیے اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(4) وہ تدبیر کرتا ہے (سارے) معاملے کی آسمان سے زمین تک، پھر چڑھتا (لوٹتا) ہے وہ (معاملہ) اس کی طرف، ایک دن میں کہ ہے اس کی مقدار ایک ہزار سال، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو(5) وہ (مدبر ہی) ہے جاننے والا پوشیدہ اورظاہر کا، نہایت غالب خوب رحم کرنے والا(6) وہ جس نے اچھے طریقے سے بنایا ہر چیز کو جسے پیدا کیا اس نے اور شروع کی پیدائش انسان کی گارے سے(7) پھربنایا اس نے اس کی نسل کو خلاصے (نطفے) سے ایک حقیر پانی کے(8) پھر اس نے درست کیا اس (کے اعضاء) کو اور پھونکا اس میں اپنی روح سے، اور بنائے اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل، (مگر) تھوڑا ہی ہے جو تم شکر کرتے ہو(9)
[4] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ﴾ ’’وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا، حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ ﴿ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾’’پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔﴿مَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں‘‘ جو تمھارے معاملات میں تمھاری سرپرستی کرے ﴿وَّلَا شَفِيۡعٍ ﴾ ’’اور نہ سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی اگرتمھیں سزا ملے تو وہ تمھاری سفارش کرے۔ ﴿اَفَلَا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے‘‘ کہ تمھیں علم ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے، جو تمھاری تدبیر اور تمھاری سرپرستی میں یکتا ہے اور تمام تر شفاعت کا وہی مالک ہے، اس لیے عبادت کی تمام انواع کا وہی مستحق ہے۔
[5]﴿يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ﴾ امر کونی و قدری اور امر دینی و شرعی کی تمام تدابیر وہ اکیلا ہی کرتا ہے اور تمام تدابیر قادر مطلق بادشاہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ﴿مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾’’آسمان سے زمین کی طرف‘‘ پس وہ ان تدابیر کے ذریعے سے کسی کو سعادت مند بناتا ہے اور کسی کو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے، کسی کو دولت مند بنا دیتا ہے اور کسی کے نصیب میں فقروفاقہ لکھ دیتا ہے، کسی کو عزت سے نوازتا ہے اور کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی کو اکرام و تکریم سے بہرہ مند کرتا ہے اور کسی کے دامن میں رسوائی ڈال دیتا ہے، کچھ قوموں کو رفعت اور عروج سے سرفراز کرتا ہے اور کچھ قوموں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور وہی آسمانوں سے رزق نازل کرتا ہے۔﴿ثُمَّ يَعۡرُجُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’ پھر وہ اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔‘‘ یعنی امر اس کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی طرف چڑھ جاتا ہے ﴿فِيۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗۤ اَلۡفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴾ ’’ایک روز میں جس کا اندازہ تمھارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا۔‘‘ یعنی یہ امرعروج کر کے، ایک لمحہ میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
[6]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’وہ‘‘ یعنی جس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے اور اکیلا ہی اپنی مملکت کی تدبیر کرتا ہے ﴿عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، غالب، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اس نے اپنی وسعت علم، اپنے کامل غلبے اور اپنی بے پایاں رحمت کی بنا پر ان مخلوقات کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فائدے ودیعت کیے اور ان کی تدبیر کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔
[7]﴿الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾ تمام مخلوق کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا، اسے بہترین تخلیق عطا کی۔ اس نے ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے ماحول کے موافق ہے اور یہ عام ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے فضل و شرف کی بنا پر اس کی تخلیق کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ﴾ ’’اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔‘‘ یہ ابتدا ابوالبشرحضرت آدمu کی تخلیق سے ہوئی۔
[8]﴿ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ﴾ ’’ پھر کیا اس کی نسل کو‘‘ یعنی ذریت آدم کی پیدائش کو ﴿مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ گندے اور کمزور نطفہ سے۔
[9]﴿ثُمَّ سَوّٰىهُ ﴾ پھر اس کا گوشت پوست، اس کے اعضاء، اس کے اعصاب اور اس کی شریانوں کے نظام کو درست طور پر بنایا، اسے بہترین تخلیق وہیئت سے سرفراز کیا اس کے ہر ہر عضو کو ایسے مقام پر رکھا جس کے سوا کوئی اور مقام اس کے لائق نہ تھا۔ ﴿وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ﴾ ’’اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے تب وہ جمادات کی شکل سے نکل کر، زندگی سے بہرہ ور انسان بن جاتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ﴾ اور وہ تمھیں آہستہ آہستہ تمام منفعتیں عطا کرتا رہا حتیٰ کہ تمھیں سماعت و بصارت کی مکمل صلاحیتوں سے نواز دیا ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور دل (بنائے) مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘ اس ہستی کا جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھاری صورت گری کی۔