(اے فرشتو!) اکٹھا کر دو ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا اور ان کے جوڑوں کو اور (ان کو) جن کی تھے وہ عبادت کرتے (22) سوائے اللہ کے پس ہانک لے جاؤ ان کو جہنم کے راستے کی طرف (23) اور (ابھی) ٹھہراؤ ان کو ، بلاشبہ یہ باز پرس کیے جائیں گے (24) کیا ہوا تمھیں، نہیں تم ایک دوسرے کی مدد کرتے؟ (25)بلکہ وہ آج (سب) فرماں بردار ہیں (26)
[22، 23] جب قیامت کے روز وہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر کیے جائیں گے اور اس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس کی وہ تکذیب کیا کرتے اور اس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے، تو ان کو جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جائے گا:﴿اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’جو لوگ ظلم کرتے تھے انھیں جمع کرو۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، شرک اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ﴿وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾ ’’اور ان کے ہم جنسوں کو۔‘‘ یعنی جن کا عمل ان کے عمل کی جنس سے ہے، ہر شخص کو اس شخص کے ساتھ شامل کر دیا جائے گا جو عمل میں اس کا ہم جنس تھا۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَۙ۰۰ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن بتوں اور خود ساختہ ہمسروں کی عبادت کیا کرتے تھے اور جن کو انھوں نے معبود بنا رکھا تھا، جمع کیا جائے گا۔ کہا جائے گا کہ ان سب کو اکٹھا کرو ﴿فَاهۡدُوۡهُمۡ اِلٰى صِرَاطِ الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ اور سختی کے ساتھ ان کو ہانک کر جہنم میں لے جاؤ ۔
[24]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا معاملہ متعین ہو جائے گا اور انھیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ وہ جہنم میں جانے والوں میں شامل ہیں تو کہا جائے گا: ﴿قِفُوۡهُمۡ ﴾ ’’ان کو ٹھہراؤ!۔‘‘ یعنی جہنم میں ڈالنے سے پہلے ﴿اِنَّهُمۡ مَّسۡـُٔوۡلُوۡنَ۠﴾ وہ دنیا میں جو افترا پردازی کیا کرتے تھے، اس کے بارے میں ان سے سوال کیا جائے گا تاکہ ان کا جھوٹ اور رسوائی سرعام ظاہر ہو جائے۔
[25] ان سے کہا جائے گا: ﴿مَا لَكُمۡ لَا تَنَاصَرُوۡنَ ﴾ یعنی آج تمھارے ساتھ کیا ہوا؟ تم پر یہ کیا مصیبت آن پڑی کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کر سکتے حالانکہ تم تو دنیا میں اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ تمھارے معبود تم سے عذاب کو دور کر دیں گے، تمھاری مدد کریں گے یا اللہ کے ہاں تمھاری سفارش کریں گے؟
[26] تو گویا وہ اس سوال کا جواب نہیں دیں گے کیونکہ ان پر ذلت اور بے چارگی چھائی ہوئی ہو گی اور وہ اپنے آپ کو جہنم کے عذاب کے حوالے کر رہے ہوں گے، وہ ڈرے ہوئے اور مایوس ہوں گے اور بول نہیں سکیں گے ، اس لیے فرمایا:﴿بَلۡ هُمُ الۡيَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُوۡنَ۠ ﴾ ’’بلکہ وہ (سب کے سب) آج فرمانبردار بن گئے۔‘‘