اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو، جب پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ پہنچائی مجھے شیطان نے تکلیف اور ا یذا (41)(فرمایا)تومار(زمین پر) اپنا پیریہ (پانی ) ہے غسل کرنے کو ٹھنڈا اور پینے کو (42) اورعطا کیے ہم نے اس کو اس کے گھر والے اور ان کے برابر (اور) ان کے ساتھ، اپنی رحمت سے اور نصیحت واسطے عقل مندوں کے (43) اور پکڑ اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا تنکوں کا(یعنی جھاڑو)اور مار ساتھ اس کے (اپنی بیوی کو) اور نہ توڑ قسم، بے شک پایا ہم نے اسے صابر، اچھا بندہ تھاوہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (44)
[41]﴿وَاذۡكُرۡ ﴾ ’’اور یاد کرو‘‘ یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر ﴿عَبۡدَنَاۤ اَيُّوۡبَ ﴾ ’’ہمارے بندے ایوب کا‘‘ بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سامنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا ﴿اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ ﴾ جب ایوبu نے غیراللہ کے پاس نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا اے میرے رب! ﴿اَنِّيۡ مَسَّنِيَ الشَّيۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّعَذَابٍ﴾ یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط حاصل ہو گیا اس نے پھونک ماری تو جسم پر پھوڑے بن گئے ، پھر ان سے پیپ بہنے لگی اور اس کے بعد معاملہ بہت سخت ہو گیا اور اسی طرح ان کا مال اور ان کے اہل و عیال بھی ہلاک ہو گئے۔
[42] ان سے کہا گیا ﴿اُرۡؔكُضۡ بِرِجۡلِكَ ﴾ یعنی اپنی ایڑی زمین پر ماریں آپ کے لیے ایک چشمہ زمین سے پھوٹ پڑے گا، اس چشمے کا پانی پیجیے اور اس سے غسل کیجیے۔ آپ کی بیماری اور تکلیف دور ہو جائے گی۔ آپ نے ایسا ہی کیا آپ کی بیماری دور ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا بخش دی۔
[43]﴿وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اَهۡلَهٗ﴾ ’’اور ہم نے انھیں ان کے اہل و عیال عطا کردیے۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل و عیال کو زندہ کر دیا تھا۔ ﴿وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ ﴾ اور دنیا میں اتنے ہی اور عطا کر دیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ مال سے بہرہ مند کر کے نہایت مال دار کر دیا ﴿رَحۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ یعنی ہماری طرف سے ہمارے بندے ایوب پر رحمت تھی کیونکہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند کیا۔ ﴿وَذِكۡرٰى لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل مند لوگ حضرت ایوبu کی حالت سے نصیحت اور عبرت پکڑیں اور انھیں معلوم ہو جائے کہ جو کوئی مصیبت میں صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی اور اخروی ثواب سے نوازتا ہے اور جب وہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔
[44] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ایوبu کو حکم دیا ﴿وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثًا ﴾ ’’اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو۔‘‘ یعنی درخت کی باریک شاخوں کا گٹھا ﴿فَاضۡرِبۡ بِّهٖ وَلَا تَحۡنَثۡ ﴾ ’’اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ ایوبu بیماری اور تکلیف کے دوران کسی معاملے میں اپنی بیوی سے ناراض ہو گئے تھے، اس پر آپ نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے۔ ان کی بیوی، انتہائی نیک اور آپ کے ساتھ بھلائی کرنے والی خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس خاتون پر اور حضرت ایوبu پر رحم فرمایا اور فتویٰ دیا کہ وہ درخت کی باریک سو شاخوں کا گٹھا لے کر اس سے ایک ہی دفعہ ماریں ان کی قسم پوری ہو جائے گی۔ ﴿اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا ﴾ یعنی ہم نے آپ کو بہت بڑی بیماری اور تکلیف کے ذریعے سے آزمایا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کیا۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’وہ بہترین بندے تھے‘‘ جنھوں نے خوشی اور مصیبت، خوش حالی اور بدحالی میں عبودیت کے مراتب کی تکمیل کی ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی آپ اپنے دینی اور دنیاوی مطالب میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے، اپنے رب کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے، اس کو بہت زیادہ پکارنے والے، اس سے محبت اور اس کی عبادت کرنے والے تھے۔