Tafsir As-Saadi
38:48 - 38:49

اوریاد کیجیے ! اسماعیل اور یسع اور ذوالکفل کو، اور ہر ایک (ان میں سے) نیکوں میں سے تھا (48) یہ ایک نصیحت ہے اور بے شک واسطے متقیوں کے البتہ اچھا ٹھکانا ہے(49)

[48] یعنی ان انبیائے کرام کو احسن طریقے سے یاد کیجیے اور بہترین طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے کیونکہ یہ سب بہترین لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے چن لیا، ان کو کامل ترین احوال، بہترین اعمال واخلاق، قابل تعریف اوصاف اور درست خصائل کا حامل بنایا۔
[49]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین اور ان کے اوصاف کا تذکرہ تو ﴿ذِكۡرٌ ﴾ ’’نصیحت ہے‘‘ اس نصیحت کرنے والے قرآن کریم تاکہ ان کے احوال سے نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں، اقتدا کرنے والے ان کے اوصاف حمیدہ کی پیروی کے مشتاق ہوں اور ان اوصاف زکیہ اور ثنائے حسن کی معرفت حاصل ہو، جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا۔ یہ بھی ذکر کی ایک قسم ہے، یعنی اہل خیر کا تذکرہ، اہل خیر اور اہل شر کی جزا و سزا کا تذکرہ بھی ذکر ہی کی ایک قسم ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی ان تمام مومنین اور مومنات کے لیے جو اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کرتے ہیں ﴿لَحُسۡنَ مَاٰبٍ﴾ بہترین ٹھکانا اور خوب ترین مرجع ہے۔