Tafsir As-Saadi
39:60 - 39:61

اوردن قیامت کے آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ پر، ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا؟ (60) اور نجات دے گا اللہ ان لوگوں کو جنھوں نے تقوی اختیار کیا، ساتھ ان کی کامیابی کے، نہیں پہنچے گی ان کو برائی اور نہ وہ غمگین ہوں گے (61)

[60] جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کی، اللہ تعالیٰ ان کی رسوائی بیان کرتا ہے کہ قیامت کے روز ان کے چہرے سیاہ تاریک رات کی مانند سیاہ ہوں گے، ان کے سیاہ چہروں کی وجہ سے اہل موقف انھیں پہچانیں گے اور روشن صبح کی مانند حق صاف واضح ہو گا۔ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر حق کے چہرے کو جھوٹ کے ساتھ سیاہ کر دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو بھی سیاہ کر دیا۔ یہ سزا ان کے عمل کی جنس ہی سے ہے۔ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان کے لیے جہنم کا نہایت سخت عذاب ہو گا اس لیے فرمایا:﴿اَلَيۡسَ فِيۡ جَهَنَّمَ مَثۡوًى لِّلۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ کیا جو لوگ حق اور اپنے رب کی عبادت کے بارے میں تکبر کا رویہ رکھتے تھے اور اس پر بہتان طرازی کرتے تھے، ان کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں اللہ کی قسم! بلاشبہ جہنم میں شدید عذاب، بے انتہا رسوائی اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی ہوگی۔ جہاں متکبرین کو پور ی طرح عذاب دیا جائے گا اور ان سے حق وصول کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا، اس کا بیٹا اور بیوی قرار دینا، اس کی طرف سے کوئی ایسی خبر دینا جو اس کے جلال کے لائق نہ ہو، نبوت کا دعویٰ کرنا، اس کی شریعت میں ایسی بات کہنا جو اس نے نہ کہی ہو اور دعویٰ کرنا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے مشروع کیا ہے، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔
[61] متکبرین کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا حال بیان کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَيُنَجِّي اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا بِمَفَازَتِهِمۡ ﴾ ’’اور جو پرہیز گار ہیں ان کی کامیابی کے سبب اللہ ان کو نجات دے گا۔‘‘ کیونکہ ان کے پاس آلۂ نجات یعنی تقویٰ ہو گا جو ہر شدت اور ہولناکی کے وقت بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ ﴿لَا يَمَسُّهُمُ السُّوۡٓءُ ﴾ یعنی تکلیف دہ عذاب انھیں چھوئے گا نہیں۔ ﴿وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ﴾ ’’اوروہ غمگین نہیں ہوں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب اور خوف کی نفی کر دی اور یہ ا من کی انتہا ہے۔ ان کے لیے مکمل امن ہو گا اور یہ امن ان کے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ وہ سلامتی کے گھر یعنی جنت میں داخل ہو جائیں گے تب وہ ہر تکلیف اور ہر برائی سے محفوظ و مامون ہوں گے اور ان پر نعمتوں کی تازگی چھا جائے گی اور وہ پکار اٹھیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَذۡهَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ شَكُوۡرُ ﴾(فاطر: 35؍34)’’ہر قسم کی تعریف ہے اس ذات کے لیے جس نے ہم سے حزن و غم کو دور کیا بلاشبہ ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے۔‘‘