اور البتہ تحقیق ہلاک (تباہ) کر دیں ہم نے جو تمھارے آس پاس ہیں بستیاں اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کیں آیتیں تاکہ وہ (ہماری طرف) رجوع کریں (27) پس کیوں نہ مدد کی ان کی ان لوگوں نے جنھیں ٹھہرایا تھا انھوں نے سوائے اللہ کے قرب حاصل کرنے کے لیے معبود، بلکہ گم ہو گئے وہ (معبود) ان سے، اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور جو کچھ کہ تھے وہ افترا باندھتے (28)
[28,27] اللہ تبارک و تعالی عرب کے مشرکین اور دیگر مشرکین کو ڈراتا ہے کہ اس نے انبیاء کی تکذیب کرنے والی ان قوموں کو تباہ و برباد کر دیا جو ان مشرکین کے اردگرد آباد تھیں بلکہ ان میں سے بہت سی قومیں تو جزیرۃ العرب میں آباد تھیں، مثلاً: عاد اور ثمود وغیرہ، اللہ تعالی نے ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں ، یعنی انھیں ہر نوع کی نشانیاں پیش کیں۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ اپنے کفر اور تکذیب کے رویے سے باز آجائیں۔ جب وہ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالی نے ان کو اس طرح پکڑا جس طرح زبردست اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے، ان کے ان خداؤ ں نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا جن کو وہ اللہ کے بغیر پکارا کرتے تھے۔اس لیے یہاں فرمایا:﴿ فَلَوۡلَا نَصَرَهُمُ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ قُرۡبَانًا اٰلِهَةً﴾ ’’لہٰذا ان لوگوں نے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا تقرب کا ذریعہ بنایا گیا، ان کی مدد کیوں نہ کی۔‘‘ یعنی ان کا تقرب حاصل کرتے اور ان سے فائدے کی امید پر ان کی عبادت کرتے تھے ﴿ بَلۡ ضَلُّوۡا عَنۡهُمۡ﴾ بلکہ ان کے معبودوں نے ان کی پکار کا کوئی جواب دیا نہ عذاب کو ان سے دور کر سکے۔ ﴿ وَذٰلِكَ اِفۡكُهُمۡ وَمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ جھوٹ گھڑا کرتے تھے، جس کی بنا پر وہ سمجھتے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے اعمال ان کو فائدہ دیں گے، مگر وہ اعمال بے کار اور باطل ہو گئے۔