اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم کافروں کو دوست سوائے مومنوں کے، کیا چاہتے ہو تم یہ کہ (ثابت) کرو اللہ کے لیے اپنے خلاف حجت ظاہر؟(144)
[144] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر کفار کو دوست بناتے ہیں۔ اس لیے اس نے اپنے مومن بندوں کو اس قبیح حالت سے متصف ہونے سے روکا ہے۔ نیز انھیں منافقین کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا ہے۔ کیونکہ تمھارا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو حجت فراہم کرے گا فرمایا: ﴿ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطٰنًا مُّؔبِيۡنًا ﴾ ’’یہ کہ تم اپنے اوپر اللہ کا صریح الزام لو۔‘‘ یعنی تمھیں عذاب دینے کے لیے یہ واضح دلیل ہو گی۔ کیونکہ ہم تمھیں اس رویے سے ڈرا چکے ہیں اور تمھیں اس سے بچنے کی تلقین کر چکے ہیں اور اس میں جو مفاسد پنہاں ہیں ان سے آگاہ کر چکے ہیں۔ اس کے بعد بھی اسی راہ پر چلنا عذاب کا موجب ہو گا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے کامل عدل پر دلالت کرتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قانون پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حجت قائم کرنے سے پہلے کسی کو سزا نہیں دے گا اور اس میں گناہوں سے بچنے کی تلقین ہے کیونکہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اپنے خلاف اللہ تعالیٰ کو واضح دلیل فراہم کرتا ہے۔