Tafsir As-Saadi
42:16 - 42:16

اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں، بعد اس کے کہ مان لیا گیا اس کو، ان کی دلیل کمزور ہے نزدیک ان کے رب کے اور اوپر ان کے غضب ہے اور ان کے لیے ہے عذاب سخت (16)

[16] یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ ﴾(الشوریٰ: 15/42) کا بیان ہے، چنانچہ یہاں آگاہ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ يُحَآجُّوۡنَ فِي اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ یعنی باطل دلائل اور متناقض شبہات کے ذریعے سے ۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا اسۡتُجِيۡبَ لَهٗ﴾ ’’اس (الله كی ذات) کے تسلیم کیے جانے کے بعد۔‘‘ یعنی اس کے بعد کہ جب عقل سے بہرہ مند لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے قطعی دلائل اور روشن براہین بیان کر دیے تھے تو وہ لوگ جو حق کے واضح ہو جانے کے بعد، حق کے ساتھ مجادلہ کرتے ہیں۔ ﴿حُجَّتُهُمۡ دَاحِضَةٌ ﴾ ان کی حجت باطل اور ناقابل قبول ہے۔ ﴿عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کے رب کے نزدیک۔‘‘ کیونکہ یہ ایسے امور پر مشتمل ہے جو حق کے خلاف ہیں اور جو چیز حق کے خلاف ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ ﴿وَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٌ ﴾ ان کی نافرمانی، اللہ تعالیٰ کے دلائل و براہین سے روگردانی اور ان کو جھٹلانے کے سبب سے، ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے۔ ﴿وَّلَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے شدید عذاب ہے۔‘‘ یہ سخت عذاب اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ ہے اور یہ ہر اس شخص کی سزا ہے جو باطل دلائل سے حق کے خلاف جھگڑتا ہے۔