Tafsir As-Saadi
42:30 - 42:31

اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو کوئی مصیبت توبسبب اس کےجو کمایا تمھارے ہاتھوں نے اور وہ درگزر کر دیتا ہے بہت سی باتوں سے (30) اور نہیں ہو تم عاجز کرنے والے (اسے) زمین میں اور نہیں ہے تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی کارساز اور نہ کوئی مددگار (31)

[30] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بندوں کو ان کے ابدان، اموال، اولاد اور ان کی محبوب اور عزیز چیزوں میں جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے اس کا سبب ان کے ہاتھوں سے کمائی ہوئی برائیاں ہیں اور وہ برائیاں جو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے، اس سے بھی زیادہ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے، بندے خود اپنے آپ پر ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ﴿وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ ﴾(فاطر:35؍45) ’’اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔‘‘
[31] اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقوبات کو موخر کرنا، کسی بھول کی بنا پر ہے نہ کسی عجز کی بنا پر ۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تم زمین میں (اسے) عاجز نہیں کرسکتے۔‘‘ یعنی تم پر جو اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل ہے اس بارے میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں پاؤ گے۔ بلکہ تم زمین کے اندر بے بس اور عاجز ہو۔ اللہ تم پر جو حکم نافذ کرتا ہے تم اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں۔‘‘ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں فوائد عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو تم سے ضرر رساں چیزوں کو دور کرے۔