اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان کے درمیان میں ہے، کھیلتے ہوئے (38) نہیں پیدا کیا ہم نے ان دونوں کو مگر ساتھ حق (ایک مقصد) کے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(39) بلاشبہ دن فیصلے کا، ٹھہرایا ہوا وقت ہے ان کا سب کا (40) اس دن نہیں کام آئے گا کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے (41) مگر جس پر رحم کیا اللہ نے، بلاشبہ وہ بڑا زبردست، بہت رحم کرنے والا ہے (42)
[38، 39] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غوروفکر نہیں کیا۔
[40]﴿اِنَّ يَوۡمَ الۡفَصۡلِ ﴾ ’’بے شک فیصلے کا دن۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے، جب اللہ اولین و آخرین اور اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ﴿مِيۡقَاتُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ یعنی تمام خلائق کے لیے ایک وقت مقرر ہے اس وقت میں اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا، ان کو اور ان کے اعمال کو اپنے سامنے حاضر کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
[41] اس دن کوئی رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار کے کام آئے گا اور نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام آئے گا﴿وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’اور نہ انھیں کہیں سے کوئی مدد ملے گی۔‘‘ نہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچایا جا سکے گا کیونکہ مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی۔
[42]﴿اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مگر جس پر اللہ مہربانی کرے۔ وہ تو غالب، مہربان ہے۔‘‘ پس یہی لوگ ہوں گے جو فائدہ اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بلند مراتب پر فائز ہوں گے جس کو انھوں نے دنیا کے اندر مراتب کے حصول کا سبب بنایا اور اس کے لیے پوری کوشش کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: