Tafsir As-Saadi
43:79 - 43:80

بلکہ انھوں نے پختہ فیصلہ کیا ایک کام کا، تو ہم بھی قطعی فیصلہ کرنے والے ہیں(79) کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بلاشبہ ہم نہیں سنتے بھید ان کا اور سرگوشی کرنا ان کا؟ کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ان کے پاس لکھتے ہیں (80)

[79] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: کیا حق کی تکذیب کرنے والوں اور اس سے عناد رکھنے والوں نے کوئی تدبیر کی ہے؟ ﴿اَمۡرًا ﴾ یعنی انھوں نے حق کے خلاف سازش کی اور حق لانے والے کے خلاف چال چلی ہے تاکہ وہ ملمع سازی سے باطل کو مزین کر کے اور دلچسپ بنا کر حق کو سرنگوں کریں۔ ﴿فَاِنَّا مُبۡرِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم بھی ایک بات کو محکم بنا رہے ہیں اور ایسی تدبیر کر رہے ہیں جو ان کی تدبیر پر غالب ہے اور اس کو توڑ کر باطل کر کے رکھ دے گی اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ حق کو ثابت کرنے اور باطل کے ابطال کے لیے اسباب اور دلائل مقرر کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَى الۡبَاطِلِ فَيَدۡمَغُهٗ﴾(الانبیاء: 21؍18) ’’بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو حق باطل کا سر توڑ ڈالتا ہے۔‘‘
[80]﴿اَمۡ يَحۡسَبُوۡنَ ﴾ کیا وہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ ﴿اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّهُمۡ ﴾ وہ بھید جس کو وہ اپنی زبان پر نہیں لائے بلکہ ابھی وہ ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے، ہم سنتے نہیں۔ ﴿وَنَجۡوٰىهُمۡ ﴾ اور ان کی خفیہ بات چیت کو جو وہ سرگوشیوں میں کرتے ہیں؟ بنابریں وہ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان معاصی پر کوئی متابعت نہیں اور نہ ان باتوں کی سزا ہی ملے گی جو چھپی ہوئی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿بَلٰى ﴾ ’’ہاں، ہاں‘‘ ہم ان کے بھید اور ان کی سرگوشیوں کو جانتے ہیں ﴿وَرُسُلُنَا ﴾ ’’اور ہمارے قاصد۔‘‘ یعنی با تکریم فرشتے ﴿لَدَيۡهِمۡ يَكۡتُبُوۡنَ ﴾ وہ ان کے تمام اعمال کو لکھتے ہیں اور ان اعمال کو محفوظ رکھیں گے اور جب یہ لوگ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو وہ ان تمام اعمال کو موجود پائیں گے جو انھوں نے کیے تھے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔