اور جس دن پیش کیے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا آگ پر (کہا جائے گا) لے لیا تم نے(پورا حصہ)اپنی لذتوں کا اپنی زندگانی ٔدنیا میں، اور فائدہ اٹھا لیا تم نے ان سے ، پس آج بدلہ دیے جاؤ گے تم عذابِ ذلت کا بہ سبب اس کے کہ تھے تم تکبر کرتے زمین میں ناحق اور بہ سبب اس کے کہ تھے تم نافرمانی کرتے (20)
[20] اللہ تبارک و تعالی کفار کا حال بیان کرتا ہے، جب ان کو جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا اور زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا:﴿ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰؔتِكُمۡ فِيۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے۔‘‘ کیونکہ تم دنیا پر مطمئن ہو گئے، اس کی لذتوں کے دھوکے میں مبتلا ہو گئے، اس کی شہوات کو پسند کر لیا اور اس کی طیبات نے تمھیں آخرت کی کوششوں سے غافل کر دیا ﴿ وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا﴾ ’’اور ان سے متمتع ہوچکے۔‘‘ جیسے چراگاہ میں چرنے کے لیے چھوڑے ہوئے مویشی فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ تمھاری آخرت میں سے تمھارا حصہ ہے ﴿ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ﴾یعنی آج تمھیں سخت عذاب دیا جائے گا جو تمھیں رسوا کر کے رکھ دے گا۔ اور یہ اس سبب سے ہے جو تم اللہ پر ناحق بات کہاکیا کرتے تھے، یعنی گمراہی کی طرف لے جانے والے جس راستے پر تم گامزن تھے تم اسے اللہ تعالی اور اس کے حکم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ حالانکہ تم اس بارے میں جھوٹے تھے۔﴿ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ﴾ یعنی تم تکبر کرتے تھے اور اللہ تعالی کی اطاعت کے دائرہ سے نکل گئے تھے۔پس انھوں نے قول باطل، عمل باطل، اللہ تعالی پر اس کی رضا کے بارے میں جھوٹ، حق کے بارے میں قدح اور حق کے بارے میں تکبر کو جمع کیا، اس لیے ان کو سخت سزا دی گئی۔