Tafsir As-Saadi
50:12 - 50:15

جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے اور رَس (کنویں) والوں نے اور ثمود نے (12) اور عاد اور فرعون اور بر ادرانِ لوط نے (13)اور ایکہ (بستی) والوں اور قوم تُبَّعْ نے، (ان) سب نے جھٹلایا رسولوں کو تو ثابت ہو گئی (ان پر) میری وعید (14)کیا پس ہم تھک گئے ہیں پہلی بار پیدا کر کے؟ (نہیں)بلکہ وہ شک میں ہیں پیدا کرنے سے از سر نو (15)

[14-12] یعنی ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں نے بھی اپنے انبیائے عظام اور مرسلین کرام کو جھٹلایا، جیسے نوحu کو ان کی قوم نے جھٹلایا، ثمود نے حضرت صالحu کی تکذیب کی، عاد نے ہودu کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے لوطu کو اور اصحاب ایکہ نے شعیبu کو جھوٹا سمجھا۔ زمانہ اسلام سے قبل یمن کے ہر بادشاہ کو (تبع) کہا جاتا تھا، چنانچہ تبع کی قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی جو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ نہیں فرمایا کہ وہ رسول کون تھا اور اسے کس (تبع) کے زمانے میں مبعوث کیا گیا؟ کیونکہ… واللہ اعلم… وہ رسول عربوں میں مشہور اور معروف تھا اور عرب میں پیش آنے والے واقعات ان سے چھپے ہوئے نہ تھے، خاص طور پر اس قسم کے عظیم حادثے سے وہ بے خبر نہیں رہ سکتے تھے۔ پس ان تمام قوموں نے ان رسولوں کو جھٹلایا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ پس اس پاداش میں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی وعید اور اس کی سزا واجب ہو گئی۔حضرت محمد(ﷺ) کو جھٹلانے والو! تم ان گزری ہوئی قوموں سے بہتر ہو نہ گزرے ہوئے رسول تمھارے رسولﷺسے بہتر ہیں۔ اس لیے ان کے جرم سے بچو ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق اول یعنی ابتدائی پیدائش کے ذریعے سے آخرت کی تخلیق پر استدلال کیا۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ ان کو عدم کے بعد وجود میں لایا اسی طرح وہ ان کے مرنے اور ان کے مٹی ہو جانے کے بعد انھیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا ۔اس لیے فرمایا: ﴿ اَفَعَيِيۡنَا ﴾ کیا ہم بے بس ہو گئے اور ہماری قدرت کمزور پڑ گئی ﴿ بِالۡخَلۡقِ الۡاَوَّلِ ﴾ ’’پہلی بار پیدا کرکے۔‘‘ معاملہ ایسا نہیں ہے، ہم ایسا کرنے سے عاجز ہیں نہ بے بس اور انھیں اس بارے میں کوئی شک نہیں، وہ تو تخلیق جدید کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کا معاملہ ان پر ملتبس ہو کر رہ گیا۔ حالانکہ یہ التباس کا مقام نہیں کیونکہ اعادہ، ابتدا سے زیادہ سہل ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ ﴾(الروم:30؍27) ’’وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے ، پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور وہ اس کے لیے آسان تر ہے۔‘‘