قسم ہے ہواؤ ں کی جو (گرد) بکھیرنے والی ہیں اڑا کر(1) پھر بادلوں کی جو اٹھانے والے ہیں بوجھ (پانی کا)(2) پھر کشتیوں کی جو چلنے والی ہیں آسانی سے(3) پھر( قسم ہے) ان فرشتوں کی جو تقسیم کرنے والے ہیں کام کو(4) بلاشبہ جو وعدہ دیے جاتے ہو تم (وہ) البتہ سچا ہے(5) اور بلاشبہ جزا ا لبتہ واقع ہونے والی ہے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے، جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لا محالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل و براہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کر سکتے ہیں۔ ﴿ وَ الذّٰرِيٰتِ ﴾یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں ﴿ ذَرۡوًا﴾اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی ہے۔﴿ فَالۡحٰؔمِلٰتِ وِقۡرًا﴾ اس سے مراد بادل ہے جو بہت زیادہ پانی لیے ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انسانوں اور زمین کو فائدہ عطا کرتا ہے۔ ﴿فَالۡجٰرِيٰؔتِ يُسۡرًا﴾ وہ ستارے جو نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتے رہتے ہیں، جن سے آسمان مزین ہوتے ہیں، جن کی مدد سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راہ تلاش کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے سے فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ ﴿ فَالۡمُقَسِّمٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے اوامر و تدبیر کو نافذ کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر فرشتے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے امور میں سے کسی امر کی تدبیر پر مقرر کر رکھا ہے اس لیے جو حدود مقرر کر دی گئی ہیں، وہ ان سے تجاوز کر سکتا ہے نہ ان میں کچھ کمی کر سکتا ہے۔