Tafsir As-Saadi
51:43 - 51:45

اور ثمود(کے قصے) میں (نشانی ہے)، جب کہا گیا ان سے، تم فائدہ اٹھاؤ ایک وقت (تین دن) تک (43) پس انھوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے تو پکڑ لیا ان کوکڑک نے اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے تھے (44) پھر نہ استطاعت رکھی انھوں نے کھڑے ہونے کی اور نہ تھے وہ بدلہ لینے والے ہی (45)

[43]﴿وَفِيۡ ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود میں بھی۔‘‘ ایک عظیم نشان عبرت ہے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالحu کو مبعوث کیا تو انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کے ساتھ عناد کا رویہ رکھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف واضح معجزے کے طورپر اونٹنی بھیجی ۔مگر ان کی سرکشی اور نفرت اور بڑھ گئی ﴿ اِذۡ قِيۡلَ لَهُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰى حِيۡنٍ۰۰﴾’’چنانچہ انھیں کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔‘‘
[44]﴿فَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ فَاَخَذَتۡهُمُ الصّٰؔعِقَةُ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کو کڑک نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ہلاک کر دینے والی ایک بہت بڑی کڑک نے آ لیا ﴿ وَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ اور وہ اپنی اس سزا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
[45]﴿ فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِيَامٍ﴾ ’’پس وہ اٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات حاصل کرتے ﴿ وَّمَا كَانُوۡا مُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ اور نہ وہ اپنے لیے کوئی مدد ہی حاصل کر سکے۔