Tafsir As-Saadi
6:22 - 6:24

اور جس دن ہم اکٹھا کریں گے ان سب کو، پھر ہم کہیں گے ان لوگوں کو جو شریک ٹھہراتے تھے، کہاں ہیں تمھارے وہ شریک کہ جنھیں تھے تم (شریک) گمان کرتے؟(22) پھر نہ ہوگی معذرت ان کی مگر یہ کہ وہ کہیں گے قسم ہے اللہ، ہمارے رب کی! نہیں تھے ہم مشرک(23) دیکھیں ! کیسا جھوٹ بولیں گے وہ اپنے آپ پر اور گم ہو جائے گا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(24)

[22] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز اہل شرک کے انجام کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ان سے اس شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا ﴿اَيۡنَ شُرَؔكَآؤُكُمُ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں ، یہ محض زعم باطل اور تمھاری افترا پردازی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔
[23]﴿ ثُمَّ لَمۡ تَكُنۡ فِتۡنَتُهُمۡ ﴾ ’’پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب‘‘ یعنی جب ان کو آزمایا جائے گا اور مذکورہ سوال کیا جائے گا تو ان کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں ہو گا کہ وہ اپنے شرک کا ہی انکار کر دیں گے اور قسم اٹھا کر کہیں گے کہ وہ مشرک نہیں ہیں۔
[24]﴿ اُنۡظُرۡؔ ﴾ ’’دیکھیے‘‘ یعنی ان پر اور ان کے احوال پر تعجب کرتے ہوئے دیکھیے ﴿ كَيۡفَ كَذَبُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’کیسے جھوٹ بولا انھوں نے اپنے پر‘‘ یعنی انھوں نے ایسا جھوٹ باندھا کہ… اللہ کی قسم!… اس کا خسارہ اور انتہائی نقصان انھی کو پہنچے گا ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور کھو گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے‘‘ یعنی وہ شریک جو وہ گھڑا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ الوہیت میں شریک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس افتراپردازی سے بالا و بلند تر ہے۔