کہہ دیجیے! مجھے بتلاؤ! اگر آئے تم پر عذاب اللہ کا یا آجائے تم پر قیامت تو کیا غیر اللہ کو پکارو گے تم؟ اگر ہو تم سچے(40)بلکہ صرف اسی کو پکارو گے تم، پھر دور کر دے گا (اللہ) وہ تکلیف کہ پکارو گے تم اس کے لیے، اگر چاہے گا وہ اور فراموش کر دو گے تم جنھیں شریک ٹھہراتے تھے(41)
[40]﴿قُلۡ ﴾ اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرانے والے مشرکین سے کہہ دیجیے ﴿ اَرَءَيۡتَكُمۡ اِنۡ اَتٰؔىكُمۡ عَذَابُ اللّٰهِ اَوۡ اَتَتۡكُمُ السَّاعَةُ اَغَيۡرَ اللّٰهِ تَدۡعُوۡنَ١ۚ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’بھلا بتلاؤ، اگر تمھارے پاس اللہ کا عذاب آجائے یا قیامت آجائے تو کیا تم اللہ کے سوا اوروں کو پکارو گے، اگر تم سچے ہو؟‘‘ یعنی جب تم ان تکالیف اور کرب و غم میں مبتلا ہوتے ہو اور تم ان کوہٹانے پر مجبور ہوتے ہو، تب اس وقت تم اپنے خداؤں اور بتوں کو پکارتے ہو یا تم اپنے رب بادشاہ حقیقی کو پکارتے ہو؟
[41]﴿ بَلۡ اِيَّاهُ تَدۡعُوۡنَ فَيَكۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَيۡهِ اِنۡ شَآءَ وَتَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو، پھر دور کر دیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لیے اس کو پکارتے ہو، اگر وہ چاہے اور ان کو بھول جاتے ہو جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو‘‘ جب سختیوں کے وقت تمھارا اپنے معبودوں کے بارے میں یہ حال ہے کہ تم ان کو بھول جاتے ہو کیونکہ تمھیں علم ہے کہ وہ نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کے اور نہ وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں اور تم نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی نفع و نقصان کا مالک ہے، وہی ہے جو مجبور کی دعا قبول کرتا ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ فراخی اور خوشحالی کے وقت تم شرک کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہراتے ہو۔ کیا عقل یا نقل نے تمھیں اس راہ پر لگایا ہے یا تمھارے پاس کوئی دلیل ہے یا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ گھڑ رہے ہو؟