اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو باندھے اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یا کہے وحی کی گئی ہے میری طرف جبکہ نہیں وحی کی گئی اس کی طرف کوئی چیز اور جس نے کہا، ابھی اتاروں گا میں بھی مثل اس کے جو اتارا اللہ نےاور کاش کہ آپ دیکھیں جبکہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے پھیلاتے ہیں اپنے ہاتھ(یہ کہتے ہوئے کہ) نکالو اپنی جانیں ، آج بدلہ دیے جاؤگے تم عذاب ذلت کا بوجہ اس کے کہ تھے تم کہتے اللہ پر ناحق (باتیں ) اور تھے تم اس کی آیات سے تکبر کرتے(93) اور یقیناً تم آئے ہو ہماے پاس اکیلے، جس طرح کہ پیدا کیا تھا ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ اور چھوڑ آئے تم جو کچھ دیا تھا ہم نے تمھیں ، اپنی پیٹھوں کے پیچھےاور نہیں دیکھتے ہم تمھارے ساتھ تمھارے وہ سفارشی جن کی بابت دعویٰ کرتے تھے تم کہ بے شک وہ تمھارے(معاملات) میں شریک ہیں ۔ تحقیق ٹوٹ گیا(تعلق) تمھارے درمیان اور گم ہوگئے تم سے وہ (معبود) کہ تھے تم (جن کو) گمان کرتے (94)
[93] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑا ظالم اور مجرم کوئی اور نہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات یا حکم منسوب کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ بری ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کو سب سے بڑا ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ بہتان پر مبنی ہے، اس میں ادیان، ان کے اصول و فروع میں تغیر و تبدل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو سب سے بڑی برائی ہے، نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنا اور یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی ہے، اسی افترا میں شامل ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور اس کی عظمت و غلبہ کے سامنے جسارت کا ارتکاب کرنے کے ساتھ، اس بات کو بھی واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اس (جھوٹے نبی) کی پیروی کریں اور اس بات پر لوگوں سے لڑائی کریں اور اپنے مخالفین کے جان و مال کو وہ حلال قرار دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ کی وعید میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا جیسے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، مختار ثقفی اور دیگر مدعیان نبوت جو اس وصف سے متصف ہیں ۔ ﴿ وَّمَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو کہے کہ میں بھی اتارتا ہوں مثل اس کے جو اتارا اللہ نے‘‘ یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو یہ زعم رکھتا ہے کہ وہ اس چیز پر قادر ہے جس پر اللہ تعالیٰ قادر ہے، وہ احکام میں اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کر سکتا ہے، وہ بھی اسی طرح شریعت بنا سکتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے۔ اس وعید میں وہ شخص بھی شامل ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ قرآن کا مقابلہ کر سکتا ہے اور قرآن جیسی کتاب وہ بھی بنا سکتا ہے۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک بالذات محتاج اور عاجز بندہ جو ہر لحاظ سے ناقص ہے، یہ دعویٰ کرے کہ وہ ایک طاقتور اور بے نیاز ہستی کے ساتھ خدائی میں شریک ہے جو ہر پہلو سے اپنی ذات، اسما اور صفات میں کمال مطلق کی مالک ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان ظالموں کی مذمت کی تو ساتھ ہی اس عذاب کا بھی ذکر فرما دیا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہے اور حالت نزع میں ان کو دیا جائے گا۔ ﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں جس وقت کہ ظالم ہوں موت کی سختیوں میں ‘‘ یعنی جب یہ ظالم موت کی شدت، اس کے ہول اور اس کے کرب میں مبتلا ہوں تو آپ ایک نہایت ہولناک حالت اور معاملہ دیکھیں گے کہ کوئی اس کا وصف بیان نہیں کر سکتا ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہیں ‘‘ جب نزع کی حالت میں فرشتے ان ظالموں کو ماریں گے اور عذاب کے ساتھ ان کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ان کی روحوں کو قبض کرتے اور حرکت دیتے وقت، جبکہ روحیں جسموں سے نکلنے سے انکار کریں گی، کہیں گے ﴿ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ ﴾ ’’کہ نکالو تم اپنی جانیں ، آج تمھیں رسوائی کا عذاب دیا جائے گا‘‘ یعنی ایسا سخت عذاب جو تمھیں ذلیل و رسوا کر دے گا اور جزا ہمیشہ عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ یہ عذاب اس پاداش میں ہے کہ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اس لیے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق باتیں لگاتے تھے۔‘‘ تم جھوٹ بولتے تھے اور حق کو ٹھکراتے تھے جو انبیاء لے کر تمھارے پاس آئے تھے ﴿وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔‘‘ اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات کی اطاعت اور ان کے احکام کو ماننے سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے تھے۔ یہ آیت کریمہ برزخ کے عذاب اور برزخ کی نعمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس خطاب اور عذاب کا رخ ان کی طرف عین نزع کے وقت اور موت سے تھوڑا سا پہلے اور پھر موت کے بعد ہے۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ روح جسم رکھتی ہے جو داخل ہوتی ہے اور خارج ہوتی ہے جس کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ وہ جسد کے ساتھ مل کر رہتی ہے اور اس سے علیحدہ ہو جاتی ہے۔
[94] یہ ان کا برزخی حال ہے۔قیامت کے روز جب یہ وارد ہوں گے تو نہایت افلاس کی حالت میں اکیلے اکیلے آئیں گے۔ ان کے ساتھ گھر والے ہوں گے نہ مال ہو گا نہ اولاد ہو گی، ان کے ساتھ لشکر ہوں گے نہ اعوان و انصار، وہ قیامت کے روز اسی طرح ہر چیز سے عاری اور عریاں حالت میں آئیں گے جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا کیونکہ اشیا تو اس کے بعد ان اسباب کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہیں جو ان کے لیے مقرر ہیں ۔ اس روز وہ تمام امور منقطع ہو جائیں گے جو دنیا میں بندے کے ساتھ تھے۔ سوائے نیک اعمال یا بداعمال کے اور یہ اعمال ہی آخرت کا مادہ ہیں جن سے آخرت ظہور پذیر ہو گی ۔آخرت کا حسن و قبح، اس کا سرور و غم اور اس کا عذاب و نعمت اعمال کے مطابق حاصل ہوگا۔ یہ اعمال ہی ہیں جو نفع دیں گے یا نقصان دیں گے جو اچھے لگیں گے یا برے لگیں گے۔ اور ان اعمال کے علاوہ اہل و اولاد، مال و متاع اور اعوان و انصار تو یہ سب دنیا میں رہ جانے والے اسباب، زائل ہو جانے والے اوصاف اور بدل جانے والے احوال ہیں ۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَؔكۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰكُمۡ ﴾ ’’البتہ تم ہمارے پاس آ گئے ایک ایک ہو کر جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی مرتبہ اور چھوڑ آئے تم جو کچھ اسباب ہم نے دیے تھے تمھیں ‘‘ یعنی جو کچھ ہم نے تمھیں عطا کیا اور جن نعمتوں سے ہم نے تمھیں نوازا تھا ﴿ وَرَآءَؔ ظُهُوۡرِكُمۡ ﴾ ’’اپنے پیچھے‘‘ انھیں پیچھے چھوڑ آئے ہو اور وہ تمھارے کسی کام نہ آئیں گی ﴿وَمَا نَرٰى مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّهُمۡ فِيۡكُمۡ شُرَؔكٰٓؤُا ﴾ ’’اور ہم نہیں دیکھتے تمھارے ساتھ سفارشیوں کو جن کو تم گمان کرتے تھے کہ ان کا تم میں ساجھا ہے‘‘ مشرکین اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا کرتے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملائکہ، انبیا اور صالحین وغیرہم کی عبادت بھی کیا کرتے تھے، حالانکہ یہ سب اللہ کی ملکیت ہیں مگر وہ لوگ ان مخلوق ہستیوں کے لیے ایک حصہ ٹھہراتے تھے اور اپنی عبادت میں ان کو شریک کرتے تھے اور یہ ان کا زعم باطل اور ظلم ہے کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کا مالک اور ان کی عبادت کا مستحق ہے۔ لہذا ان کے شرک فی العبادۃ، بعض بندوں کو عبادت کا مستحق ٹھہرانے اور ان کو خالق و مالک کا مقام دینے کی بنا پر قیامت کے روز ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے مذکورہ بات کہی جائے گی ﴿لَقَدۡ تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’تمھارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے۔‘‘ یعنی آج تمھارے اور تمھارے شرکاء کے مابین سفارش وغیرہ کے تمام روابط اور تعلقات منقطع ہو گئے اور ان تعلقات نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡكُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’اور جاتے رہے وہ دعوے جو تم کیا کرتے تھے‘‘ وہ نفع، امن، سعادت اور نجات جن کے وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے، گم ہو گئے جن کو شیطان تمھارے سامنے مزین کیا کرتا تھا، تمھارے دلوں میں انھیں خوبصورت بنایا کرتا تھا اور تمھاری زبانوں پر ان کا ذکر رہا کرتا تھا۔ اور تم اپنے اس زعم باطل کے فریب میں مبتلا رہے جس کی کوئی حقیقت نہیں یہاں تک کہ ان تمام دعووں کا بطلان واضح ہو گیا اور ظاہر ہو گیا کہ تم خود اپنی ذات، اپنے اہل و عیال اور اپنے مال و متاع کے بارے میں خسارے میں پڑے رہے۔