اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ دوستی کرو تم اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، تحقیق وہ مایوس ہو گئے ہیں آخرت سے جیسے مایوس ہو گئے کفار اہل قبور سے (13)
[13] یعنی اے مومنو! اگر تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو، اس کی رضا کی اتباع کرتے ہو اور اس کی ناراضی سے دور رہتے ہو تو ﴿ لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’ان لوگوں سے دوستی نہ کرو، جن پر اللہ ناراض ہوا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ محض ان کے کفر کی وجہ سے ان پر ناراض ہے اور یہ کفر کی تمام اصناف کو شامل ہے۔ ﴿ قَدۡ يَىِٕسُوۡا مِنَ الۡاٰخِرَةِ﴾’’وہ آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں۔‘‘ یعنی انھیں آخرت کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا، اس لیے آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہ ہو گا۔ اس لیے تم ان کو دوست بنانے سے بچو ورنہ تم بھی ان کے شر اور شرک کی موافقت کرنے لگو گے اور اس طرح تم بھی آخرت کی بھلائی سے محروم ہو جاؤ گے، جیسے وہ محروم ہو گئے۔﴿ كَمَا يَىِٕسَ الۡكُفَّارُ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡقُبُوۡرِ﴾ ’’جس طرح کا فروں کو مردوں (کے جی اٹھنے) کی امید نہیں۔‘‘ یعنی جب وہ آخرت کے گھر کو جائیں گے، وہاں حقیقتِ امر کا مشاہدہ کریں گے اور انھیں علم الیقین حاصل ہو گا کہ آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔ اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے کہ وہ آخرت سے مایوس ہو گئے ہیں یعنی انھوں نے آخرت کا انکار اور اس کے ساتھ کفر کیا ہے۔ تب ان سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کاموں اور اس کے عذاب کی موجبات کا اقدام کریں اور ان کا آخرت سے مایوس ہونا ایسے ہی ہے جیسے قیامت کا انکار کرنے والے کفار دنیا میں اصحاب قبور کے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے سے مایوس ہیں۔