اے نبی! جب آئیں آپ کے پاس مومن عورتیں، وہ بیعت کریں آپ سے اوپر اس بات کے کہ نہیں شریک ٹھہرائیں گی وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو اور نہیں چوری کریں گی وہ اور نہیں زنا کریں گی وہ اور نہیں قتل کریں گی وہ اپنی اولاد کو اور نہیں لگائیں گی وہ کوئی ایسا بہتان کہ گھڑا ہو انھوں نے اس کو درمیان اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے اور نہیں نافرمانی کریں گی وہ آپ کی کسی نیک کام میں، تو آپ بیعت لے لیں ان سے، اور مغفرت طلب کریں آپ ان کے لیے اللہ سے، بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (12)
[12] اس آیت کریمہ میں مذکورہ شرائط ’’عورتوں کی بیعت‘‘ کے نام سے موسوم ہیں ، جو ان مشترکہ واجبات کی ادائیگی پر بیعت کرتی تھیں، جو تمام اوقات میں مردوں اور عورتوں پر واجب ہیں، رہے مرد تو ان پر ان کے احوال و مراتب کے مطابق جو واجبات ان پر لازم آتے اور متعین ہوتے ہیں، ان میں تفاوت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نبیٔ اکرمﷺ کو جو حکم دیتا تھا آپ اس کو بجا لاتے تھے، جب عورتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی درخواست کرتیں اور ان مذکورہ شرائط کا التزام کرتیں تو آپ ان سے بیعت لے لیا کرتے تھے، آپ ان کی دل جوئی کرتے اور ان امور میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بخشش طلب کرتے جن میں ان سے کوتاہی واقع ہوتی، اور انھیں جملہ مومنین میں ان شرائط کے ساتھ شامل کرتے کہ ﴿ لَّا يُشۡرِكۡنَ بِاللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔‘‘ بلکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق سمجھیں گی ﴿ وَلَا يَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَهُنَّ ﴾ ’’اور وہ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔‘‘ جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں جاہل عورتوں سے اپنی بیٹیوں کو ’’زندہ درگور‘‘ کرنا صادر ہوتا تھا۔ ﴿وَلَا يَزۡنِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کریں گی۔‘‘ جیسا کہ غیر مردوں سے یاری دوستی رکھنے والی عورتوں میں یہ فعل کثرت سے موجود تھا ﴿ وَلَا يَاۡتِيۡنَ بِبُهۡتَانٍ يَّفۡتَرِيۡنَهٗ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِنَّ وَاَرۡجُلِهِنَّ﴾ ’’اور کوئی ایسا بہتان نہ لگائیں گی جو خود اپنے ہاتھوں اور پیروں کے سامنے گھڑ لیں۔‘‘ بہتان سے مراد غیر پر افترا پردازی ہے، یعنی وہ کسی بھی حالت میں افترا پردازی نہیں کریں گی، خواہ اس کا تعلق خود اپنے اور اپنے شوہر کے ساتھ ہو یا شوہر کے علاوہ دوسرے کے ساتھ ہو۔ ﴿ وَلَا يَعۡصِيۡنَكَ فِيۡ مَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی کسی بھی معاملے میں جس کا آپ حکم دیں، وہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، کیونکہ آپ کا حکم معروف کے مطابق (نیک) ہی ہو گا، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نوحہ کرنے، گریبان چاک کرنے، چہرہ نوچنے اور جاہلیت کی آواز نکالنے کی ممانعت میں آپ کی اطاعت کریں گی۔ ﴿ فَبَايِعۡهُنَّ﴾ جب وہ مذکورہ احکام کی تعمیل کا التزام کریں، تو ان سے بیعت لیجیے ﴿وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُنَّ اللّٰهَ﴾ اور ان کی دل جمعی کے لیے ان کی تقصیر کی اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ﴾ یعنی وہ نافرمانوں کو بہت کثرت سے بخشنے والا، اور گناہ گار تائبین پر احسان کرنے والا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں اور اس کا احسان تمام مخلوقات کو شامل ہے۔