Tafsir As-Saadi
60:10 - 60:11

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب آئیں تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے تو تم امتحان لو ان کا اللہ خوب جانتا ہےان کے ایمان کو، پس اگر جانو تم ان کو مومن تو نہ لوٹاؤ تم انھیں کفار کی طرف، نہیں وہ (عورتیں) حلال ان کے لیے اور نہ وہ (کافر) حلال ہیں ان کے لیے اور تم دو ان (کفار) کو جو کچھ (مہر) انھوں نے خرچ کیا اور نہیں کوئی گناہ تم پر یہ کہ تم نکاح کر لو ان سے جب تم دے دو انھیں حق مہر ان کے اور نہ روکے (قبضے میں) رکھو تم عصمتیں کافر عورتوں کی اور مانگ لو تم جو کچھ (مہر) خرچ کیا تم نے اور چاہیے کہ مانگیں وہ بھی جو کچھ (مہر) انھوں نے خرچ کیا یہ فیصلہ ہے اللہ کا، وہ فیصلہ کرتا ہے تمھارے درمیان اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (10) اور اگر چلی جائیں تم سے کچھ بیویاں تمھاری کفار کی طرف تو بدلہ دو تم ان (خاوندوں) کو پس دو تم ان لوگوں کو کہ چلی گئی ہیں ان کی بیویاں، مثل اس (مہر) کے جو انھوں نے خرچ کیا اور ڈرو تم اللہ سے وہ کہ تم اس کے ساتھ ایمان رکھتے ہو (11)

[10] صلح حدیبیہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے مشرکین مکہ کے ساتھ اس شرط پر معاہدہ کیا کہ کفار میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے تو وہ مشرکین کو واپس کر دیا جائے گا۔ یہ عام اور مطلق لفظ تھا، جس کے عموم میں مرد اور عورت سب شامل ہیں۔ مردوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ایفائے شرط اور معاہدۂ صلح کو پورا کرنے کے لیے کفار کی طرف واپس لوٹانے سے اپنے رسول کو منع نہیں کیا، جو سب سے بڑی مصلحت تھی۔رہی عورتیں تو چونکہ ان کے واپس لوٹانے میں بہت سے مفاسد تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے ان کے پاس آئیں، اور ان کو ان عورتوں کے ایمان کی صداقت میں شک ہو، تو ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیا کریں، تاکہ سخت قسم وغیرہ کے ذریعے سے، ان کی صداقت ظاہر ہو جائے، کیونکہ اس بات کا احتمال ہو سکتا ہے کہ ان کے ایمان میں صداقت نہ ہو، بلکہ شوہر یا شہر وغیرہ دنیاوی مقاصد کے لیے ہجرت کی ہو، اگر ان میں یہ وصف پایا جائے، تو ایفائے شرط کے لیے کسی خرابی کے حصول کے بغیر ان کا واپس کیا جانا طے شدہ ہے۔ اگر اہل ایمان نے ان کو جانچ لیا اور ان کو سچا پایا ہو، یا جانچ پڑتال کے بغیر ہی اہل ایمان کو ان کے مومن ہونے کا علم ہو، تو وہ ان عورتوں کو کفار کی طرف واپس نہ بھیجیں ﴿ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّوۡنَ لَهُنَّ ﴾ ’’یہ (عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں نہ وہ (کافر) ان کے لیے۔‘‘ یہ بہت بڑی خرابی ہے جس کی شارع نے رعایت رکھی ہے، شارع نے ایفائے شرط کی بھی رعایت رکھی کہ ان عورتوں کے عوض میں ان کے کفار شوہروں کو وہ مہر اور اس کے توابع وغیرہ واپس لوٹا دیے جائیں جو انھوں نے ان عورتوں پر خرچ کیے ہیں۔ تب مسلمانوں کے لیے، ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں، خواہ دارالشرک میں ان کے (مشرک) شوہر موجود ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان عورتوں کو مہر اور نان و نفقہ ادا کریں۔جس طرح مسلمان عورت کافر کے لیے حلال نہیں، اسی طرح اہل کتاب کے سوا کافر عورت، جب تک وہ اپنے کفر پر قائم ہے، مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں، اس لیے فرمایا:﴿ وَلَا تُمۡسِكُوۡا بِعِصَمِ الۡكَوَافِرِ ﴾ ’’اور تم کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں رکھنے سے منع کیا ہے تب ان کے ساتھ نکاح کی ابتدا تو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہے ﴿ وَسۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ ﴾ اے مومنو! جب تمھاری مرتد بیویاں کفار کی طرف واپس لوٹیں تو ان سے اس مال کا مطالبہ کرو، جو تم نے ان پر خرچ کیا ہے۔ جب کفار اپنی ان عورتوں کو عطا کیا ہو امہر وصول کر سکتے ہیں، جو مسلمان ہو گئی ہوں، تب اس کے مقابلے مسلمان بھی اس مہر کو وصول کرنے کے مستحق ہیں جو ان کی (مرتد) بیویوں کے ساتھ کفار کے پاس گیا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا اپنے شوہر کی زوجیت سے نکلنا قیمت رکھتا ہے ، اگر کوئی فاسد کرنے والا عورت کے نکاح کو رضاعت یا کسی اور سبب کی بنا پر فاسد کر دے، تو اس کے مہر کی ضمان ہے، یعنی مہر کی ادائیگی ضروری ہے ﴿ ذٰلِكُمۡ حُكۡمُ اللّٰهِ ﴾ یعنی یہ فیصلہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، جو اس نے تمھارے سامنے بیان کر کے واضح کیا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون سے احکام تمھارے لیے درست ہیں ، پس وہ اپنی حکمت اور رحمت کے مطابق اپنے احکام مشروع کرتا ہے۔
[11]﴿ وَاِنۡ فَاتَكُمۡ شَيۡءٌ مِّنۡ اَزۡوَاجِكُمۡ اِلَى الۡكُفَّارِ ﴾ ’’اور اگر تمھاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمھارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے۔‘‘ اس سبب سے کہ وہ مرتد ہو کر واپس چلی گئی ہو۔ ﴿ فَعَاقَبۡتُمۡ فَاٰتُوا الَّذِيۡنَ ذَهَبَتۡ اَزۡوَاجُهُمۡ مِّثۡلَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’تو تم (مال غنیمت میں سے) ان کو اتنا مال دے دو جتنا انھوں نے خرچ کیا۔‘‘ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ جب کفار مسلمانوں سے اس مہر کا بدل وصول کرتے تھے جو ان کی بیویوں کے پاس مسلمانوں کی طرف چلا جاتا تھا، تب مسلمانوں میں سے کسی کی بیوی کفار کے پاس چلی جائے اور وہ اس سے محروم ہو جائے، تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ غنیمت میں سے اسے اس مال کا بدل عطا کریں جو مہر کی صورت میں اس نے اپنی بیوی پر خرچ کیا۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تم اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔‘‘یعنی اللہ تعالیٰ پر تمھارا ایمان تم سے تقاضا کرتا ہے کہ تم دائمی طور پر تقویٰ کا التزام کرو۔