اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بلاشبہ بعض تمھاری بیویاں اور (بعض) تمھاری اولاد دشمن ہیں تمھارے ،سو بچو تم ان سے اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (14) یقیناً تمھارے مال اور تمھاری اولاد آزمائش ہیں اور اللہ، اس کے ہاں تو اجر عظیم ہے (15)
[14، 15] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ ان میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں۔ اور دشمن وہ ہوتا ہے جو تمھارے خلاف برائی کا ارادہ رکھتا ہو اور تمھارا وظیفہ (ذمہ داری) ایسے شخص سے بچنا ہے جس کی یہ صفت ہو۔ بیویوں اور اولاد کی محبت نفس کی جبلت ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ایسی محبت کے بارے میں نصیحت کی ہے جو ان کے لیے بیوی اور اولاد کے ایسے مطالبات کے سامنے جھکنے کا موجب بنتی ہے جس میں کوئی شرعی ممانعت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احکام کی تعمیل اور اس ثواب عظیم کے لیے اس کی رضا کو مقدم رکھنے کی ترغیب دی ہے جو بلند مطالب اور عالی قدر محبت پر مشتمل ہے اور اس امر کی ترغیب دی ہے کہ وہ آخرت کو ختم ہو جانے والی فانی دنیا پر ترجیح دیں۔چونکہ ایسے امور میں بیویوں اور اولاد کی اطاعت سے روکا گیا ہے اور ان سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے جن میں بندے کے لیے ضرر ہے، اس سے بیوی اور اولاد کے بارے میں درشتی اور سختی متوہم ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے بچنے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے، اس میں بہت سے مصالح ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاِنۡ تَعۡفُوۡا وَتَصۡفَحُوۡا وَتَغۡفِرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے، لہٰذا جو کوئی معاف کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرتا ہے، جو کوئی درگزر کرے، اللہ تعالیٰ اس سے درگزر کرتا ہے، جو کوئی ایسے امر میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے جو اسے پسند ہے اور اس کے بندوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جسے وہ پسند کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے فائدہ مند ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے بندوں کی محبت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس کے معاملے کی حفاظت کی جاتی ہے۔