اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں رہنمائی کروں تمھاری اوپر ایسی تجارت کے جو نجات دے تمھیں عذاب درد ناک سے؟ (10) ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں، ساتھ اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (11) وہ (اللہ) بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور داخل کرے گا تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اور محلات پاکیزہ میں (جو) ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہیں، یہ ہے کامیابی بہت بڑی (12) اور (تمھارے لیے نعمت ہے) ایک اور کہ پسند کرتے ہو تم اس کو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح قریب اور بشارت دے دیجیے مومنوں کو (13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم مدد گار اللہ کے جیسے کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے، کون ہے مدد گار میرا اللہ کے لیے؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد گار اللہ کے پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور کفر کیا ایک گروہ نے، سو قوت دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں پر، تو ہو گئے وہ غالب (14)
[10] یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔
[11] گویا کہاگیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے؟ پس فرمایا:﴿ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے، جن میں سے جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔‘‘ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمہ کی سر بلندی ہو، اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمھیں میسر ہے، اسے خرچ کرو۔ اگر چہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے، یعنی دشمنان اسلام پر فتح و نصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے، وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔اس میں اخروی بھلائی بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی،
[12] چنانچہ فرمایا :﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔اس کو ’’جنت عدن‘‘ اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔
[13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے :﴿ وَاُخۡرٰؔى تُحِبُّوۡنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَتۡحٌ قَرِيۡبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا:﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790)
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا:﴿ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيّٖنَ۠ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے:﴿ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتۡ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔