Tafsir As-Saadi
62:2 - 62:4

وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر آیتیں اس کی، اور تزکیہ کرتا ہے ان کا،اور تعلیم دیتا ہے انھیں کتاب و حکمت کی، اور بلاشبہ تھے وہ پہلے (اس سے) البتہ گمراہی ظاہر میں(2) اور (آپ کو بھیجا) دوسرے لوگوں میں بھی انھی میں سے، کہ ابھی تک نہیں ملے وہ ساتھ ان کے اور وہ خوب غالب خوب حکمت والا ہے(3) وہ فضل ہے اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جسے چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(4)

[2]﴿اَلۡاُمِّيّٖنَ﴾ سے مراد عرب وغیرہ کے وہ لوگ ہیں، جن کے پاس کوئی (آسمانی) کتا ب ہے نہ رسالت کے آثاراور وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسروں کی نسبت بہت بڑا احسان فرمایا، کیونکہ وہ علم اور بھلائی سے بے بہرہ تھے، اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے، شجر و حجر اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، شکاری درندوں کے سے اخلاق رکھتے تھے، طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا، اور وہ انبیاء کرام کے علوم سے بالکل جاہل تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا، جس کے نسب، اوصاف جمیلہ اور صداقت کو وہ خوب جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسول پر کتاب نازل کی ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات قاطعہ کی تلاوت کرتا تھا جو ایمان و یقین کی موجب ہیں ﴿ وَيُزَؔكِّيۡهِمۡ﴾ اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم اور ان کی ترغیب کے ذریعے سے ان کو پاک کرتا تھا اور اخلاق رذیلہ سے ان کو روکتا تھا۔ ﴿ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ اور ان کو کتاب و سنت کا علم سکھاتا تھا جو اولین و آخرین کے علم پر مشتمل تھا، چنانچہ اس تعلیم و تزکیہ کے بعد وہ مخلوق میں سب سے زیادہ عالم ، بلکہ اہل علم و دین کے امام ہوگئے وہ سب سے زیادہ کامل اخلاق کے مالک اور لائحہ عمل کے اعتبار سے سب سے اچھے بن گئے۔ انھوں نے خود بھی راہ راست اختیار کی اور دوسروں کو بھی اس پر گامزن کیا پس اس طرح وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے امام اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسولﷺ کو مبعوث فرما کر ان کو کامل ترین نعمت اور جلیل ترین عطیے سے نوازا۔
[3]﴿ وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے، یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہﷺ کی دعوت پہنچی تھی۔اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پا سکے، بہرحال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنیٰ صحیح ہیں۔ بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول مبعوث کیا، جنھوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا، ان کو ایسے خصائص اور فضائل حاصل ہیں، کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔
[4] یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو مہمل اور بے کار نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں رسول مبعوث فرمائے، ان کو امر و نہی کا مکلف بنایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑ افضل ہے، اور وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اس فضل سے بہرہ مند کرتا ہے، ان پر یہ نعمت بدنی عافیت اور رزق کی کشادگی جیسی دنیاوی نعمتوں سے افضل ہے۔ پس دین کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں، دین کی نعمت فوز و فلاح اور ابدی سعادت کی روح ہے۔