Tafsir As-Saadi
64:5 - 64:6

کیا نہیں آئی تمھارے پاس خبر ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا (اس سے) پہلے، پس چکھا انھوں نے وبال اپنے کام کا؟ اور ان کے لیے ہے عذاب بہت درد ناک(5) یہ بوجہ اس کے ہے کہ بلاشبہ لاتے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں تو وہ کہتے، کیا بشر راہ دکھائیں گے ہمیں؟ پس انھوں نے کفر کیا اور رو گردانی کی اور بے پروائی کی اللہ نے، اور اللہ بے پروا خوب قابل تعریف ہے(6)

[5] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور عظیم اوصاف کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی عبادت کی جاتی ہے، اس کی رضا کے حصول میں کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ناراضی سے اجتناب کیا جاتا ہے ، تب اس نے آگاہ فرمایا کہ اس نے گزشتہ قوموں اور گزرے ہوئے زمانوں کے ساتھ کیا کیا جن کی خبریں متاخرین بیان کرتے چلے آئے ہیں اور سچے لوگ ان سے آگاہ کرتے رہے ہیں کہ جب ان کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ عناد رکھا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا کے اندر ان کے کرتوتوں کے وبال کا مزا چکھا یا اور ان کو دنیا کے اندر رسوا کیا ﴿وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے نہایت الم ناک عذاب ہے۔
[6] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس عقوبت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ سزا اور وبال جو ہم نے ان پر نازل کیا ہے، اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهٗ كَانَتۡ تَّاۡتِيۡهِمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے جو حق اور باطل پر دلالت کرتے تھے، مگر انھوں نے ناگواری سے منہ پھیر لیا اور اپنے رسولوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ اور کہنے لگے:﴿ اَبَشَرٌ يَّهۡدُوۡنَنَا﴾ ’’کیا ایک بشر ہماری راہنمائی کرتا ہے؟‘‘ یعنی انھیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، تب کس بنا پر اللہ نے ہمیں چھوڑ کر انھیں (نبوت کے لیے) مختص کیا۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ہم بھی تمھاری مانند بشر ہی ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، نواز دیتا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو انبیائے کرام علیہ السلام سے روک دیا کہ وہ مخلوق کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول ہوں اور تکبر سے ان کی اطاعت نہ کی۔ اور اس طرح وہ شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو گئے۔ ﴿ فَكَـفَرُوۡا﴾ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا ﴿ وَتَوَلَّوۡا﴾ اور اس کی اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّاسۡتَغۡنَى اللّٰهُ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے اور وہ ان کی پروانہیں کرتا اور ان کی گمراہی اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ﴾ وہ ایسا غنی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل اور مطلق کا مالک ہے۔ وہ اپنے اقوال، افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔